
عرفات جمال نے کہا کہ افغانستان میں ایک بحران کے اندر دوسرا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان سے واپس آنے والے افغانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن میں بیشتر انہی علاقوں میں واپس آ رہے ہیں جنہیں زلزلے کے نتیجے میں تباہی کا سامنا ہے۔ افغانستان کو پہلے ہی شدید غربت اور خشک سالی کا سامنا ہے، جہاں امدادی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔ واپس آنے والے بعض لوگ کئی دہائیوں کے بعد اپنے ملک میں آ رہے ہیں جبکہ دیگر کی پیدائش بیرون ملک ہوئی اور انہوں نے پہلی مرتبہ افغانستان میں قدم رکھے ہیں۔
‘یو این ایچ سی آر’ کے مطابق، پاکستان کی جانب سے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو واپس بھیجنے کا منصوبہ دوبارہ شروع ہونے کے بعد اپریل سے اب تک پانچ لاکھ 54 ہزار افغانوں نے واپسی اختیار کی ہے اور صرف اگست میں ہی ایک لاکھ 43 ہزار لوگ واپس آئے تھے۔عرفات جمال نے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان پناہ گزینوں سے متعلق انسانی ہمدردی پر مبنی اپنی دیرینہ پالیسی کو برقرار رکھے۔






