
ہم سب برطانوی غلامی کے خلاف جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والے بہادر مجاہدین کے کارناموں سے واقف ہیں، مگر بہت سے ایسے سپہ سالار بھی ہیں جن کے کارناموں پر کم روشنی پڑی۔ 1857ء کے گمنام سپہ سالار نواب خیراتی خاں پنڈاری انہی عظیم ہستیوں میں شامل ہیں، جنہوں نے کمپنی بہادر کے متعدد محاذوں پر دانت کھٹّے کیے، مگر تاریخ دانوں نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
میرٹھ میں 10 مئی 1857ء کو طبل انقلاب بجنے کے بعد مظفر نگر میں 13 مئی کو دیہاتیوں نے عوامی املاک اور برطانوی بنگلے نذر آتش کر دیے۔ وہاں خزانے کی حفاظت کے لیے جو دستہ تعینات تھا، وہ میرٹھ کی انقلابی 20ویں دیسی پلٹن سے تعلق رکھتا تھا، جس نے اپنے ساتھیوں کی تقلید کرتے ہوئے مظفر نگر میں جمع 85,000 روپے لوٹ لیے۔ صورتحال دیکھ کر کلکٹر و مجسٹریٹ برفورڈ ابو پورہ میں روپوش ہو گیا، جہاں وہ 29 مئی کو مارا گیا۔





