قطر کے بعد صہیونیوں کے ارادے!

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 14, 2025408 Views


برسوں سے اسرائیل نے ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ تنازع کو ایک ایسی کھلی جنگ کے طور پر دیکھا ہے جس کی کوئی سرحد نہیں ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، شام میں بشار الاسد کی سابقہ حکومت، یمن میں حوثی افواج، حتیٰ کہ ایران کی اپنی سر زمین بھی صہیونی فضائی حملوں، رہنماؤں کے قتل اور تخریب کاری سے محفوظ نہ رہی۔ اگرچہ ان کارروائیوں سے عدم استحکام پیدا ہوا لیکن انہیں اکثر خطے کے دو طاقتور ممالک کے درمیان خفیہ تنازع کے حصے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ جب تک لڑائی ان گروہوں اور علاقوں تک محدود رہی، دیگر ممالک نے عموماً اسے قبول کیا۔ لیکن نہیں، قطر تو ایران کی پراکسی نہیں۔ یہ تو ایک دولت مند خلیجی ریاست ہے جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے جبکہ یہ ایک ’بڑا نان-نیٹو اتحادی‘ ہے جسے واشنگٹن نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

دوحہ پر حملہ کر کے اسرائیل نے حد پار کر دی ہے جس کے علاقائی سلامتی کے لیے گہرے مضمرات ہوں گے۔ یہ کسی بھی خلیجی سلطنت پر بڑا حملہ ہے۔ اس حملے نے ایک اشارے کے طور پر کام کیا جس نے ہر عرب ملک کو متنبہ کیا ہے اور انہیں سوالات پوچھنے پر مجبور کر رہا ہے کہ کیا کسی بھی ملک کی خود مختاری کا واقعی احترام کیا جائے گا۔ قطر کی طرح، ترکیہ اور مصر بھی جنگ بندی مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں مذاکرات کے دوران ثالثی کے مرکز پر بمباری کرنا خود سفارت کاری کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونیوں کی اسی حرکت کے سبب تقریباً پوری دنیا اسرائیل اور اس کے قائدین پر لعنت ملامت کر رہی۔ یہ صورت حال امریکہ کو مزید تنازع میں الجھا سکتی ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اس کی ضرورت ہے تاکہ امریکہ، اسرائیل کو سمجھ بوجھ دے سکے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...