
ڈیمنشیا دراصل کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ دماغی امراض کی وجہ سے پیدا ہونے والی علامات کا ایک مجموعہ ہے، جو یادداشت، سوچنے سمجھنے، فیصلے کرنے اور رویے کو متاثر کرتا ہے۔ الزائمر اس کا سب سے عام سبب ہے۔ عام طور پر یادداشت کمزور ہونا، بولنے میں دشواری، رویے میں اچانک تبدیلی یا روزمرہ کاموں میں رکاوٹ اس کے اہم اثرات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بیماری بڑی عمر میں زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے لیکن یہ بڑھاپے کا لازمی حصہ نہیں ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 65 سال سے زیادہ عمر کے تقریباً 5 تا 8 فیصد افراد کسی نہ کسی شکل میں ڈیمنشیا کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہر پانچ سال پر اس کی شرح تقریباً دگنی ہو جاتی ہے۔ اندازہ ہے کہ 85 سال سے زائد عمر کے نصف افراد اس بیماری کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر وقت پر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں آسٹریلیا میں ڈیمنشیا ایک شدید سماجی و معاشی چیلنج بن سکتا ہے۔






