
ان مظاہرین کو دنیا بھر میں ’جنریشن زیڈ‘ یعنی ’جین زی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس کی پیدائش 1997 سے 2012 کے درمیان ہوئی اور جس نے آنکھ کھولتے ہی انٹرنیٹ کا زمانہ دیکھا۔ اس نسل کے لئے انٹرنیٹ صرف ایک سہولت نہیں بلکہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ جب حکومت اس نسل سے ان کی پسندیدہ ویب سائٹس اور ایپس چھیننے کی کوشش کرتی ہے تو ان کے غصے کا پھوٹنا لازمی امر بن جاتا ہے۔ نیپال کی حکومت نے حال ہی میں فیس بک، واٹس ایپ اور ایکس جیسی بڑی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی کیونکہ ان کمپنیوں نے مقررہ مدت میں اپنے آپ کو حکومت کے ساتھ رجسٹر نہیں کرایا۔ اس فیصلے کو نوجوانوں نے براہِ راست اپنے خلاف سمجھا اور ان کا غصہ سڑکوں پر نظر آیا۔
یہ صورتحال صرف نیپال تک محدود نہیں۔ اس سے پہلے سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی ایسے ہی بحران سے گزر چکے ہیں۔ سری لنکا میں مظاہرین نے صدر اور وزیرِ اعظم کے گھروں پر دھاوا بول کر انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس وقت کہا گیا کہ حکومت معیشت کو بہتر بنانے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے۔ اچانک حکومت بدلتے ہی ملک کے معاشی حالات آہستہ آہستہ سنبھلنے لگے، اس کو کیا سمجھا جائے؟ کچھ ایسا ہی بنگلہ دیش میں بھی ہوا جہاں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد حالات بہتری کی طرف مڑ گئے۔






