
چشم دیدوں کے مطابق بیسنٹ کے ردعمل سے پُلٹے حواس باختہ رہ گئے تھے۔ دونوں رہنماؤں میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے کلب کے شریک مالک اور فائنانسر عمید ملک کو مداخلت کرنی پڑی لیکن بیسنٹ کو یہ منظور نہیں تھا۔ وہ پلٹے کو ڈنر پارٹی سے باہر نکلوانا چاہتے تھے۔ بیسنٹ نے کلب کے مالک سے کہا، ’’یا تو وہ یہاں رہے گا یا میں، تم مجھے بتاؤ کہ یہاں سے کون نکلے گا۔‘‘ یا پھر اس نے آگے کہا، ’’ہم باہر جا سکتے ہیں۔‘‘
’’کیا کرنے؟‘‘ پُلٹے نے پوچھا، ’’بات کرنے؟‘‘
’’نہیں‘‘، بیسنٹ نے جواب دیا، ’’میں تمہاری پٹائی کر دوں گا۔‘‘






