
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پیر کے روز الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ بہار میں ایس آئی آر میں ووٹرس کی شناخت یقینی بنانے کے لیے ’آدھار‘ کو بارہویں دستاویز کی شکل میں شامل کرے۔ فی الحال بہار میں ایس آئی آر کے لیے 11 مقرر دستاویزات ہیں، جنھی ووٹرس کو اپنے فارم کے ساتھ جمع کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ میں آج ایس آئی آر پر ہوئی سماعت میں جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے واضح کیا کہ ’آدھار‘ شہریت کا ثبوت نہیں ہوگا اور الیکشن کمیشن ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے ووٹرس کے ذریعہ پیش آدھار کارڈ نمبر کی صداقت سے متعلق جانچ کر سکتا ہے۔





