
ان کا مزید کہنا تھا کہ “اگر امریکہ اور یورپی یونین مل کر روس پر مزید پابندیاں عائد کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان ممالک پر ثانوی محصولات عائد کرتے ہیں جو روسی تیل خرید رہے ہیں، تو روس کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔ اس سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو حل کے لیے میز پر آنے کے مجبور ہو جائیں گے “۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے الاسکا میں روسی صدر پوتن سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد امریکی صدر نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی حکام کو جنگ کے خاتمے کے ممکنہ حل پر بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس مدعو کیاتھا تاہم جنگ کو روکنے یا ختم کرنے کی کوششوں پر کوئی اثر نہیں دکھا تھا۔






