
پنجاب اس وقت گزشتہ چار دہائیوں کی بدترین قدرتی آفت کا سامنا کر رہا ہے۔ راوی، بیاس اور ستلج جیسی اہم ندیوں میں آنے والی شدید طغیانی نے ریاست میں بھیانک تباہی مچا دی ہے۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے 23 میں سے تقریباً تمام اضلاع اس آفت کی زد میں آ چکے ہیں۔ ریاست کے 1902 گاؤں مکمل طور پر زیرِ آب آ گئے ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر فصلوں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔
فصلوں کو ہونے والا نقصان اندازوں سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ تقریباً 1.71 لاکھ ہیکٹیئر اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں، مگر تازہ رپورٹ کے مطابق یہ نقصان 4 لاکھ 38 ہزار 40 ایکڑ تک جا پہنچا ہے۔ کسانوں کے مطابق تباہ شدہ کھیت کئی برس تک دوبارہ قابلِ کاشت نہیں رہیں گے۔ ریاست کے مختلف حصوں میں فصلیں بہہ جانے سے کسانوں کی محنت رائیگاں ہو گئی ہے اور دیہی معیشت کو سخت جھٹکا لگا ہے۔






