
ستر کی دہائی کے بعد ممبئی کی چمک دمک انہیں غیر مانوس محسوس ہونے لگی اور وہ کلکتہ واپس لوٹ گئے جہاں انہوں نے کئی بنگالی نغمے تخلیق کیے۔ ان کا دائرہ ہندی تک محدود نہیں تھا، انہوں نے ملیالم، تمل، تیلگو، کنڑ، گجراتی، اوڑیہ اور مراٹھی سنیما کو بھی اپنی دھنوں سے نوازا۔
1958 میں مدھومتی کے لیے انہیں فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ 1998 میں انہیں سنگیت ناٹیہ اکادمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ تقریباً 75 ہندی فلموں اور درجنوں غیر ہندی فلموں میں موسیقی دے کر سلیل چودھری نے ایک وسیع ورثہ چھوڑا۔
5 ستمبر 1995 کو یہ جادوگر موسیقار دنیا کو الوداع کہہ گیا، مگر ان کے نغمے آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی موسیقی یہ یاد دلاتی ہے کہ گیت محض تفریح نہیں بلکہ زندگی کے دکھ، سکھ، خواب اور وطن کی محبت کے آئینہ دار بھی ہوتے ہیں۔






