
ڈاکٹر راکیش نے اینیمیا کے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیماری خون میں ہیموگلوبن اور آئرن کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بچوں کی پڑھائی پر توجہ کم ہو جاتی ہے اور جسمانی نشوونما بھی رک سکتی ہے۔
انہوں نے اس موقع پر سرکاری اسکیموں کی بھی تعریف کی جو بچوں کے لیے غذائیت کو یقینی بنانے میں معاون ہیں۔ ڈاکٹر راکیش نے کہا کہ آنگن واڑی مراکز چھ سال تک کے بچوں کو روزانہ کی ضروری غذائیت کا نصف حصہ فراہم کرتے ہیں، جو بچوں کی صحت کو بہتر بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
ڈاکٹر راکیش نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی صحت اور غذا پر خاص دھیان دیں اور کسی بھی غیر معمولی علامت پر ماہرین سے مشورہ لینے میں تاخیر نہ کریں۔






