صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ امریکی مصنوعات کو ہندوستانی بازار میں جگہ نہیں ملتی تھی کیونکہ درآمدی ڈیوٹی 100 فیصد سے بھی زیادہ تھی، جبکہ امریکی بازار ہندوستانی مصنوعات کے لیے کھلا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’وہ جو کچھ بھی بناتے تھے، بڑی مقدار میں ہمارے ملک میں بھیج دیتے تھے مگر ہم کچھ بھی نہیں بھیج پاتے تھے کیونکہ وہ بھاری ٹیرف لگا دیتے تھے۔‘‘
ٹرمپ نے اپنی پرانی مثال دہراتے ہوئے کہا کہ ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکلیں ہندوستان میں 200 فیصد ڈیوٹی کے سبب فروخت نہیں ہو پا رہی تھیں۔ اس وجہ سے کمپنی کو مجبوراً ہندوستان میں اپنا پلانٹ لگانا پڑا تاکہ بھاری ٹیرف سے بچا جا سکے۔ اگرچہ کمپنی نے بعد میں کمزور فروخت کی وجہ سے 2020 میں اپنا پلانٹ بند کر دیا، تاہم ٹرمپ کے مطابق یہ مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی صنعتوں کے لیے ہندوستانی منڈی تک رسائی مشکل بنائی گئی تھی۔






