
آر ایس ایس کا کردار
این سی ای آر ٹی نے مہا سبھا کے نظریاتی رفیق، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا ذکر بھی گول کر دیا۔ مشہور ہے کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران ایم ایس گولوالکر کی قیادت میں آر ایس ایس نے عوامی تحریکوں، بشمول 1942 کی ’بھارت چھوڑو‘ تحریک سے خود کو الگ رکھا۔ اس نے نوآبادیاتی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے برطانوی پابندیوں کے تحت اپنی عسکری شاخ بھی ختم کر دی۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آر ایس ایس نے 2002 تک اپنے ہیڈکوارٹر پر قومی پرچم تک نہیں لہرایا تھا۔ ایسے میں اس کے جانشینوں کا آج قومی اتحاد کا محافظ بننے کا دعویٰ مضحکہ خیز لگتا ہے۔ تقسیم کی ہنگامہ خیزی کے دوران اس کی خاموشی اور لاتعلقی کا ذکر کیے بغیر کوئی بھی سچا تعلیمی بیانیہ مکمل نہیں ہوگا۔






