
یاد رہے کہ عدالت نے 9 جولائی کو اس معاملے میں سماعت مکمل کرتے ہوئے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ اب تقریباً دو ماہ بعد عدالت اپنا فیصلہ سنانے والی ہے، جس کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔
استغاثہ کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ملزمان کی ضمانت کی شدید مخالفت کی تھی۔ انہوں نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ یہ معاملہ محض ایک عام فساد کا نہیں ہے بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر ہندوستان کو بدنام کرنا تھا۔ مہتا نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئی اپنے ملک کے خلاف سرگرمی کرتا ہے تو بہتر یہی ہے کہ وہ بری ہونے تک جیل میں ہی رہے۔ ان کے مطابق لمبی مدت کی قید ضمانت دینے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔






