اس فیصلے سے اس خدشے کو مزید تقویت ملی ہے کہ ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن(ڈی پی ڈی پی)ایکٹ، 2023 آر ٹی آئی کو کمزور کر دے گا۔ (السٹریشن: دی وائر)
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے سوموار (25 اگست) کو ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (ڈی پی ڈی پی) ایکٹ، 2023 کا حوالہ دیتے ہوئے سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کے 2016 کے اس آرڈر کو خارج کر دیا، جس میں دلی یونیورسٹی کو وزیر اعظم نریندر مودی کی گریجویشن ڈگری کی تفصیلات کو عام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔
عدالت نے اسے ‘نجی جانکاری’ قرار دیا۔ معلوم ہو کہ ابھی تک ڈی پی ڈی پی ایکٹ کو نوٹیفائی نہیں کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے اس خدشے کو مزید تقویت ملی ہے کہ یہ نیا قانون اطلاعات کے حق (آر ٹی آئی) کو کمزور کر دے گا۔
ڈی پی ڈی پی ایکٹ، 2023 کی دفعہ 44(3) آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 8(1)(جے) میں ترمیم کرتی ہے اور تمام شخصی معلومات کو عام کرنے پر پابندی لگاتی ہے۔ یہ قانون پارلیامنٹ نے اگست 2023 میں منظور کیا تھا، لیکن ابھی تک اسے مطلع نہیں کیا گیا ہے۔
اس ایکٹ نے آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 8(1)(جے)کے تحت ان مستثنیات کو ختم کر دیا ہے،جن کی بنیاد پر بعض مواقع پر شخصی معلومات کو عام کرنے کی اجازت دی جا سکتی تھی۔
ترمیم سے پہلےشخصی معلومات کو ظاہر نہ کرنے کے لیے درج ذیل وجوہات میں سے کم از کم ایک کو قائم کرنا ضروری تھا؛
مانگی گئی معلومات کا کسی عوامی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے،
مانگی گئی معلومات کا مفاد عامہ سے کوئی تعلق نہیں ہے،
معلومات کو عام کرنے سے رازداری پر غیر معقول حملہ ہوگا اور پبلک انفارمیشن آفیسر/اپیل اتھارٹی کو یہ اطمینان ہو کہ کوئی بڑا عوامی مفاد نہیں ہے جو معلومات کو ظاہر کرنے کا جواز فراہم کرتا ہو۔
سوموار کو اپنے فیصلے میں دلی ہائی کورٹ نے کہا کہ اگرچہ ڈی پی ڈی پی ایکٹ کو ابھی تک مطلع نہیں کیا گیا ہے، لیکن یہ ‘قانون سازی کے ارادے’ کی عکاسی کرتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کو تسلیم ہےکہ ڈی پی ڈی پی ایکٹ ‘جس نے آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 8(1)(جے)میں ترمیم کی ہے (اگرچہ ابھی تک مطلع نہیں کیا گیا) قانون سازی کے ارادے کا ایک اہم اشارہ ہے۔’
ترمیم شدہ شق میں کہا گیا ہے کہ ‘شخصی معلومات’ کو عام نہیں کیا جائے گا۔ پہلے کی شرائط، مثلاً رازداری کی خلاف ورزی ثابت کرنا یا وسیع تر مفاد عامہ کی بنیاد پر جانکاری دینا، اب ہٹا دیا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ‘یہ قانون سازی اورتبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب معلومات کی رازداری کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور شخصی ڈیٹا کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔’
غور طلب ہے کہ 175صفحات پر مشتمل ایک مشترکہ فیصلے میں جسٹس سچن دتہ نے سی آئی سی کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا جس میں سی بی ایس ای کو آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں بی جے پی لیڈر اسمرتی ایرانی کے 10ویں اور 12ویں کلاس کے ریکارڈ کو شیئر کرنے کو کہا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ مانگی گئی معلومات میں’ مفاد عامہ کا کوئی پہلو’ نہیں تھا۔
جسٹس دتہ نے کہا، ‘یہ واضح ہے کہ ‘حاصل کردہ نمبر’، گریڈ اور جوابی پرچہ ذاتی معلومات کے زمرے میں آتے ہیں اور آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 8(1)(جے) کے تحت محفوظ ہیں، جب تک کہ کوئی وسیع تر عوامی مفاد ثابت نہ ہو۔’
وکیل اور انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن کے بانی ڈائریکٹر اپار گپتا نے کہا کہ عدالت کا اس ایکٹ کا ذکر ‘محض ایک تبصرہ تھا اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔’
انہوں نے کہا، ‘فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس شق اور قانون کو ابھی تک مطلع نہیں کیا گیا ہے۔ لہٰذا ایسے تذکرے سے گریز کیا جا سکتا تھا اور فیصلہ کے استدلال یا تجزیہ کے لیے یہ ضروری بھی نہیں تھا۔ لیکن اس کا ذکر بہت سے شفافیت اور آر ٹی آئی کارکنوں کے اس خدشے کی تصدیق کرتا ہے کہ ڈی پی ڈی پی ایکٹ، 2023 پبلک سیکٹر میں شفافیت کو کمزور کر دے گا۔’
شفافیت کی کارکن اور سترک ناگرک سنگٹھن اور نیشنل کمپین فار پیپلز رائٹ ٹو انفارمیشن سے وابستہ انجلی بھاردواج نے کہا کہ ایک ایسے قانون کا حوالہ دینا، جسے ابھی تک مطلع بھی نہیں کیا گیا ہے، اس خدشے کو مزید پختہ کرتا ہے کہ یہ قانون معلومات کے حق کو کمزور کر دے گا۔
انہوں نے کہا، ‘قانون کو مطلع نہیں کیا گیا ہے، قوانین نہیں بنائے گئے ہیں، لہذا یہ ابھی تک مؤثر نہیں ہے۔آرڈر میں کہا گیا ہے کہ یہ ‘قانون سازی کے ارادے’ کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن کئی قانون جیسے وِہسل بلورز پروٹیکشن ایکٹ، 2014 مطلع نہیں کیے گئے ہیں اور اس لیے آج بھی مؤثر نہیں ہیں۔ تو کیا کوئی وِہسل بلوور صرف قانون سازی کے ارادے کی بنیاد پر تحفظ حاصل کر سکتا ہے؟ کسی غیر مطلع شدہ قانون کا اس طرح کا حوالہ سمجھ سے بالاتر ہے۔’
اپریل میں،اپوزیشن ‘انڈیا’ الائنس کے اراکین پارلیامنٹ نے مرکزی انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو کو خط لکھ کر ڈی پی ڈی پی ایکٹ کی دفعہ 44(3) کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ممبران پارلیامنٹ نے کہا تھاکہ یہ شہریوں کے حقوق اور پریس کی آزادی پر ‘شدید اثر’ ڈالتاہے اور یہ حق اطلاعات قانون کو تباہ کر دے گا۔
اسی دن، الکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے ڈی پی ڈی پی ایکٹ کے ذریعے آر ٹی آئی ایکٹ میں کی گئی ترامیم پر اٹھنے والے خدشات کا جواب دیا تھا۔ ویشنو نے ڈی پی ڈی پی ایکٹ کی دفعہ 3 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو شخصی معلومات پہلے سے ہی دوسرے قوانین کے تحت پبلک کی جا تی رہی ہے وہ آئندہ بھی پبلک ہوگی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ترمیم شخصی معلومات کے افشاء کو نہیں روکتی بلکہ رازداری کے حق کو مضبوط کرتی ہے۔ ویشنو نے سپریم کورٹ کے پٹاسوامی کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں رازداری کو بنیادی حق سمجھا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے اس اہم معاملے پر کچھ نہیں کہا کہ اب ذاتی معلومات کو آر ٹی آئی قانون کے تحت عام کرنے سے مکمل طور پر چھوٹ مل جائے گی۔
انجلی بھاردواج نے کہا کہ اس طرح کے حوالے خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ‘یہ اتنی خطرناک مثال ہے کہ پرائیویسی کے نام پر کوئی یونیورسٹی یہ بتانے سے بھی انکار کر سکتی ہے کہ ایک سال میں وہاں سے کون کون پاس آؤٹ ہوا۔ ہندوستان جیسے ملک میں، جہاں فرضی ڈاکٹروں کی کثرت ہے، لوگ اس بات کی تصدیق کرنا چاہیں گے کہ کسی کے پاس ڈگری ہے یا نہیں۔ پہلے لوگ آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت اس کی جانچ کر سکتے تھے، لیکن اب یہ حق چھین لیا جائے گا۔ یہ معلومات کے حق کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور ڈی پی ڈی پی ایکٹ کے سنگین اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔’
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔