وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ جاپان کا یہ دورہ صرف اقتصادی اور تکنیکی تعاون تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانے تہذیبی اور ثقافتی رشتوں کو مزید گہرا کرنے کا بھی ایک موقع ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ گیارہ برسوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں مسلسل نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور اب انہیں اگلے درجے تک لے جانے کا وقت ہے۔
جاپان میں دو روزہ قیام کے بعد وزیر اعظم مودی چین جائیں گے، جہاں وہ 31 اگست اور یکم ستمبر کو تِیانجِن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ مودی نے کہا ہے کہ ’’ہندوستان ایس سی او کا سرگرم اور مثبت کردار ادا کرنے والا رکن ہے، اور اپنے دورِ رکنیت میں صحت، جدت اور ثقافتی تبادلے جیسے شعبوں میں نئی پہل کی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس اجلاس کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ ان کے بقول، یہ ملاقاتیں خطے میں تعاون کو گہرا کرنے اور عالمی امن کو فروغ دینے کے لئے اہم ثابت ہوں گی۔