
الزامات کے حق میں کئی شواہد ہیں۔ مثال کے طور پر گوپی کے خاندان کے 11 افراد کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کر دیے گئے۔ اونیسری پنچایت کے بوتھ نمبر 69 میں 1432 سے 1563 تک درج تمام ووٹر فرضی تھے (مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق)۔ کئی معاملات میں تارکین وطن کے نام ان کے اصل پتوں پر جوڑ دیے گئے تھے۔ مزید مشکوک بات یہ ہے کہ ترشور میں کوئی بڑی تعمیراتی یا صنعتی اسکیم نہیں تھی جسے مزدوروں کی آمد کا جواز بنایا جا سکے۔
ریاستی الیکشن افسر کا جواب ہمیشہ کی طرح رسمی اور غیر تسلی بخش ہے: سب کچھ ضابطے کے مطابق ہوا اور ویسے بھی شکایت اسی وقت درج کرنی چاہیے تھی۔ بی جے پی کے مطابق ایسی بے ضابطگیاں عام ہیں اور کانگریس کے جیتے ہوئے حلقوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔
مگر اب شاید ایسی بے فکری اور مایوسی کے رویے کا وقت نہیں رہا۔ ریاست میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں اور کانگریس کی ’ووٹ چوری‘ تحریک ملک بھر میں زور پکڑ رہی ہے۔ ایسے میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ آزادی کی قیمت ہمہ وقت چوکسی ہے۔





