وزرا کی برطرفی کا بل یا کرپشن کے خاتمے کے نام پر ایک اور دھاندلی!…سہیل انجم

AhmadJunaidJ&K News urduAugust 24, 2025382 Views


ایسا لگتا ہے جیسے بی جے پی کسی بھی قیمت پر مرکزی اقتدار سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کچھ بھی کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ خواہ اس کے لیے آئینی و جمہوری اقدار پر حملہ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ حکومت نے ابھی حال ہی میں انسداد بدعنوانی کے نام پر جو بل پیش کیا ہے وہ قانونی ماہرین کے مطابق آئینی و جمہوری اقدار کے منافی ہے اور اس کا مقصد اپوزیشن کے وزرائے اعلیٰ اور وزرا کو اقتدار سے باہر کرنا ہے۔ اس بل کا نام ’کرپٹ نیتا ریموول بل‘ ہے اور یہ آئین کی 130 ویں ترمیم ہے۔ اس پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ کیا۔ جب وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ بل پیش کیا تو حزب اختلاف کے ارکان نے بل کی کاپی پھاڑ کر ان کے منہ پر پھینک دیا۔ لہٰذا اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

جیسا کہ قارئین واقف ہیں کہ اگر کسی ریاستی حکومت کا کوئی وزیر، مرکزی حکومت کا کوئی وزیر، وزرائے اعلی یا وزیر اعظم بھی بدعنوانی کے ایسے الزام میں پکڑا جاتا ہے جس میں کم از کم پانچ سال کی سزا کا التزام ہو اور وہ تیس روز تک مسلسل حراست میں یا جیل میں رہتا ہے تو وہ آٹومیٹک طریقے سے اقتدار سے برطرف ہو جائے گا۔ یعنی اسے 31 ویں روز اپنی کرسی خالی کرنی پڑے گی۔ وہ چاہے بعد میں بے قصور ہی کیوں نہ ثابت ہو جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سیاست سے بدعنوانی اور کرپٹ سیاست دانوں کو ہٹانا اور ملکی سیاست کو اس برائی سے پاک کرنا ہے۔ اس سے جواب دہی کا تعین ہوگا اور سیاست میں عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔ اس کے مطابق جن کے اوپر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں ان کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...