خیال رہے کہ 28 سالہ نکّی کو مارچ میں مبینہ طور پر اُس کے شوہر وپن اور سسرالی رشتہ داروں نے زندہ جلا دیا تھا۔ نکّی بیوٹی پارلر چلاتی تھی اور اپنے کم سن بیٹے کی کفالت کر رہی تھی۔ نکّی کے والدین کا الزام ہے کہ شادی کے بعد سے ہی وپن اور اس کا خاندان 36 لاکھ روپے کے جہیز کا مطالبہ کر رہا تھا اور اسی تنازعہ کے نتیجے میں یہ دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔
نکّی کے والد نے بیٹی کے قتل کے بعد مسلسل مطالبہ کیا کہ ملزمان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ انہوں نے اس اندوہناک واردات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا، ’’یہ لوگ قاتل ہیں، انہیں گولی مار دی جائے اور ان کے گھر کو بھی توڑ دینا چاہیے۔ میری بیٹی نے اکیلے محنت کر کے اپنے بچے کی پرورش کی لیکن اسے مسلسل ستایا گیا اور آخرکار قتل کر دیا گیا۔‘‘