ان کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ عزم، مطالعہ اور محنت کے بل بوتے پر کس طرح رکاوٹوں کو مواقع میں بدلا جا سکتا ہے۔ 2001 میں ترواننت پورم (کیرالہ) میں ان کا انتقال ہوا لیکن ان کا سائنسی ورثہ آج بھی ہندوستانی موسمیات کی بنیادوں کو مضبوط کیے ہوئے ہے۔
انا منی کی کہانی صرف ایک سائنس داں کی نہیں بلکہ اس خواب کی ہے جو خواتین کو سائنس اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، لگن اور علم سے راستے نکالے جا سکتے ہیں۔
(مآخذ: آئی اے این ایس)