
اس معاملے پر امریکہ کی بھی قریبی نظر ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں برازیلی سپریم کورٹ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’سیاسی انتقام‘ کا شاخسانہ قرار دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے حالیہ دنوں میں برازیلی مصنوعات پر بھاری ٹیرف لگائے تھے اور اس فیصلے کو بولسونارو کے خلاف ’وِچ ہنٹ‘ کا حصہ کہا تھا۔
بولسونارو کے ساتھ ساتھ ان کے 33 قریبی ساتھیوں پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔ ان پر نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے بلکہ سرکاری املاک کی تباہی کا بھی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کیس کا اثر نہ صرف برازیل کی سیاست پر پڑے گا بلکہ اس کے امریکہ سے تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔






