
پولیس کے مطابق، 35 سالہ محمد دلشاد بہار کے ضلع دربھنگہ کا رہنے والا ہے اور ایک طویل عرصے سے ترینیداد میں مقیم تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اپریل 2024 میں ذیشان صدیقی کو تین مسلسل دنوں تک (19، 20 اور 21 اپریل) دھمکی آمیز ای میلز بھیجیں، جن میں خود کو بدنام زمانہ ’ڈی کمپنی‘ سے وابستہ ظاہر کیا اور الزام لگایا کہ بابا صدیقی کے قتل میں گینگسٹر لارنس بشنوئی کا ہاتھ تھا۔
ان ای میلز میں ذیشان صدیقی سے 10 کروڑ روپے کی بھاری رقم بطور تاوان طلب کی گئی تھی اور خبردار کیا گیا تھا کہ اگر رقم ادا نہ کی گئی تو ان کا انجام بھی ان کے والد جیسا ہوگا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، 21 اپریل کو باندرہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی گئی، جسے دو دن بعد یعنی 23 اپریل کو کرائم برانچ کے حوالے کر دیا گیا۔





