وشاکھاپٹنم پلانٹ میں دھماکے کے بعد پگھلا ہوا اسٹیل مزدوروں پر گرا، آٹھ کی موت

AhmadJunaidJ&K News urduJune 10, 2026365 Views


آندھرا پردیش کے سرکاری انٹرپرائز وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ میں سوموار کی شام اسٹیل میلٹنگ یونٹ میں دھماکہ ہوا، پگھلا ہوا اسٹیل نیچے فرش پر کام کررہے مزدوروں پر گر گیا، جس میں آٹھ لوگوں کی جان چلی گئی جبکہ چھ دیگر شدید طور پرجھلس گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ جان لیوا دھماکہ پگھلے ہوئے اسٹیل میں پھنسی ہوئی  گیسوں کی وجہ سے ہوا۔

سوموار، 8 جون کو آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں ایک اسٹیل پلانٹ میں اچانک دھماکہ ہوا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں واقع ’وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ‘، جو ایک نورتن سینٹرل پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ ہے اور جس کی کارپوریٹ اکائی راشٹریہ اسپات نگم لمیٹڈ(آر آئی این ایل) وزارت اسٹیل کے تحت کام کرتی ہے، کے اسٹیل میلٹنگ یونٹ میں سوموار کی شام ایک لیڈل (پگھلی ہوئی دھات کو 1500 ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت پر رکھنے والابرتن) میں ہونے والے دھماکے میں آٹھ مزدور ہلاک اور چھ شدید طور پر  زخمی ہو گئے۔

وشاکھاپٹنم کے چیف انسپکٹر آف فیکٹریز کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، یہ مہلک دھماکہ پگھلے ہوئے اسٹیل میں پھنسی گیسوں کے باعث ہوا۔

ان کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب کاسٹنگ (ڈھلائی) کے لیے اسٹیل سے بھرے ہوئے لیڈل کو گھمایا اور سینٹر کیا جا رہا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا،’اچانک ایک دھماکہ ہوا، جس سے لیڈل پلٹ گیا اور پگھلا ہوا اسٹیل نیچے فرش پر کام کرنے والے مزدوروں پر گر گیا۔ دھماکہ شام تقریباً 4:15 بجے سلائیڈ گیٹ کھولنے سے قبل ہوا۔ بڑے صنعتی لیڈل میں موجود پگھلے ہوئے اسٹیل کا درجہ حرارت تقریباً 1500 سے 1600 ڈگری سیلسیس تھا۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا،’دھماکے کے ساتھ ہی اوورہیڈ کرین میں بھی آگ لگ گئی۔ دھماکے سے آگ کا ایک بڑا گولا بلند ہوا جو چھت تک پہنچ گیا، جیسا کہ ایک مزدور نے فیکٹری انسپکٹر کو بتایا۔‘

دریں اثنا، مرکزی وزارت اسٹیل نے ایک الگ بیان میں کہا کہ حادثہ اچانک ہونے والے ایک شدید دھماکے کی وجہ سے پیش آیا۔

وزارت کے بیان کے مطابق،’حادثے کے وقت اسٹیل میلٹ شاپ-1  کے کاسٹر-2 میں کاسٹنگ کا عمل جاری تھا۔ لیڈل سے گرم خام اسٹیل کو مزید کاسٹنگ کے لیے ٹنڈش میں منتقل کرنے کی خاطر سلائیڈ گیٹ کھولنے سے پہلے ہی اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ ٹنڈش ایک کھلا اور چوڑے منہ والا برتن ہوتا ہے جسے مائع یا پگھلے ہوئے مادے کی تقسیم کے لیے فنل یا ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔‘

وزارت نے مزید کہا،’ آگ کا ایک بہت بڑا گولا ورکشاپ کی چھت تک بلند ہوا، جس کے بعد اوورہیڈ کرین-2 میں آگ لگ گئی۔‘

وزارت نے یہ بھی کہا کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ خاندانوں اور زخمی مزدوروں کو ہر ممکن امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ حادثے کی تحقیقات کے لیے بوکارو اسٹیل پلانٹ کے انچارج ڈائریکٹر کی سربراہی میں تین رکنی بیرونی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

پولیس نے مہلوکین کی شناخت جی وی اپا راؤ (سلائیڈ آپریٹر)، پربھاکر، بھیم کمار عرف گولڈ کمار (جو اسٹیل سٹی میں منیجر تھے)، کرشنا ناگ، گولڈ کمار، تریناتھ، اپالا راجو اور رمنا کے طور پر کی ہے۔ حکام نے بتایا کہ ان میں پانچ پلانٹ کے مستقل ملازمین جبکہ تین کانٹریکٹ مزدور تھے۔

وہیں،زخمی ملازمین کی شناخت آر ملیکارجن راؤ، پی. سرینواس راؤ، اے اپا راؤ، ستیہ نارائن، جی سوری بابو اور پدی راجو کے طور پر کی گئی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق، تقریباً 150 ٹن مائع اسٹیل، 1,540 ڈگری سیلسیس کے درجہ حرارت پر ہونے والے دھماکے کے بعد ہوا میں اچھل گیا۔ کھولتا ہوا مائع اسٹیل لاوے کی طرح مزدوروں پر آ گرا، جس کے نتیجے میں آٹھ مزدور جل کر راکھ ہو گئے، جبکہ چھ دیگر شدید طور پرجھلس گئے۔

انہوں نے بتایا کہ کاسٹنگ کے عمل میں مائع اسٹیل کو بلاسٹ فرنس سے کنورٹر تک ٹربو لیڈل کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ مختلف اجزاء کو شامل کرنے کے بعد اسی لیڈل کے ذریعے مائع اسٹیل کو کاسٹنگ مشین تک پہنچایا جاتا ہے۔ ایس ایم ایس-1 میں کل چھ کاسٹنگ مشینیں تھیں۔ پگھلے ہوئے اسٹیل کو ’بلومز‘میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو بڑے اور نیم تیار شدہ ڈھلے ہوئے اسٹیل کے مصنوعات ہوتے ہیں۔ انہیں رولنگ ملوں میں بھاری صنعتی پرزے بنانے کے لیے خام مال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کاسٹنگ ڈپارٹمنٹ میں پگھلے ہوئے اسٹیل کی مسلسل کاسٹنگ کے ذریعے بلومز تیار کیے جاتے ہیں۔

اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ شام تقریباً 4:15 بجے لیڈل-19 کو کنورٹر سے نکل کر کاسٹنگ مشین-2 میں پگھلا ہوا اسٹیل ڈالنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس عمل کے دوران لیڈل میں اچانک دھماکہ ہو گیا اور 1,540 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت پر جلتا ہوا مائع مادہ لاوے کی طرح اوپر اچھل گیا۔ اس کے نتیجے میں اس یونٹ میں شدید آگ بھڑک اٹھی جہاں چودہ مزدور کام کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکے کے بعد پگھلا ہوا اسٹیل 70 سے 80 فٹ دور تک پھیل گیا۔ انہوں نے کہا کہ پگھلے ہوئے اسٹیل سے خارج ہونے والی گیسیں کاربن، سلیکون، مینگنیز اور فاسفورس کے بخارات بننے کا نتیجہ تھیں، جو اس وقت پیدا ہوئیں جب کنورٹر میں 16 سے 18 منٹ تک آکسیجن پمپ کی گئی تھی۔ آکسیجن کو ایلومینیم اور فیرو الائے کے ساتھ ڈی گیس کیا گیا تھا۔

سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کی جانب سے تعینات چار فائر بریگیڈ گاڑیوں کو تقریباً چار گھنٹے تک آگ پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔

مہلوکین کے اہل خانہ اور ٹریڈ یونینوں نے اس وقت تک لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جانے کی مخالفت کی جب تک انتظامیہ نے معاوضے کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے لاشیں لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی روک دیا۔ زخمیوں کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

انتظامیہ نے اعلان کیا کہ مہلوکین کے خاندان کے ایک فرد کو ملازمت دی جائے گی اور ریٹائرمنٹ کے فائدوں کے علاوہ 25 لاکھ روپے معاوضہ بھی ادا کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی خاندانوں کو یہ اجازت بھی دی گئی کہ وہ اسٹیل سٹی میں فراہم کردہ سرکاری کوارٹرز میں متاثرہ ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک رہ سکتے ہیں۔

وشاکھاپٹنم کےکنگ جارج ہاسپٹل کی سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر وانی نے منگل کو بتایا کہ مردہ خانے میں آٹھ لاشیں ایسی حالت میں تھیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں تھی۔ شناخت کے لیے متاثرین کے ڈی این اے نمونے لیے گئے۔ اب تک صرف اپاراؤ، رمنا اور اپالا راجو کی لاشوں کی شناخت ہو سکی ہے۔

اسٹیل اور بھاری صنعتوں کے وزیر ایچ ڈی کمارا سوامی تقریباً آدھی رات کو جائے وقوعہ پر پہنچے۔ انہوں نے وہاں موجود مزدوروں سے واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرا بابو نائیڈونے چیف سکریٹری جی سائی پرساد اور دیگر سینئر حکام کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیا۔ وزراء نارا لوکیش، وی انیتا، سندھیا رانی اور مرکزی وزیر مملکت برائے اسٹیل بھوپتی راجو سرینواس  ورما نے کے جی ایچ اسپتال کا دورہ کیا۔

نارا لوکیش نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرنے کے بعد جن افسران کی ڈیوٹی میں لاپروائی ثابت ہوگی، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...