
انہوں نے کہا کہ ملک میں اب بھی ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جبکہ ایک تہائی بچے کم وزن ہیں۔ ان کے مطابق ہر دس میں سے تقریباً تین بچوں کی جسمانی نشوونما متاثر ہے اور چھ سے تئیس ماہ عمر کے 84 فیصد سے زیادہ بچوں کو مناسب غذائیت نہیں مل رہی۔
انہوں نے کہا کہ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ کھڑگے کا کہنا تھا کہ اگر اتنے برسوں کے بعد بھی بچوں کی غذائی حالت میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔





