
’او ایس ایم‘ نظام پر سوالات
پون کھیڑا نے سی بی ایس ای کے آن لائن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے طلبا کی جوابی کاپیاں براہ راست ممتحن کے پاس جاتی تھیں، لیکن بعد میں اس نظام کو تبدیل کر کے کاپیوں کو اسکین کر کے آن لائن پورٹل پر اپلوڈ کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) نے حصہ لیا، لیکن واحد بولی دہندہ ہونے کے باعث ٹینڈر مکمل نہیں ہو سکا۔ بعد ازاں اگست 2025 میں ایک اور مرحلہ منعقد کیا گیا، جس میں ’سی او ای ایم پی ٹی‘نامی کمپنی سامنے آئی۔ پون کھیڑا کا الزام ہے کہ ’سی او ای ایم پی ٹی‘ کو ٹھیکہ دلانے کے لیے ٹینڈر کی متعدد شرائط تبدیل کی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ:
اسکیننگ کے معیار (ڈی پی آئی) کو 300 سے کم کرکے 200 کر دیا گیا۔
روبوٹک ہائی اسپیڈ اسکیننگ سسٹم کی لازمی شرط ختم کر دی گئی۔
ماضی کی کارکردگی اور مالی صلاحیت سے متعلق معیار ہٹا دیے گئے۔
بلیک لسٹنگ سے متعلق ضوابط کو بھی خارج کر دیا گیا۔
تجربے اور اپنے ڈاٹا سنٹر کی شرط کو نرم کر دیا گیا اور تھرڈ پارٹی کلاؤڈ کے استعمال کی اجازت دے دی گئی۔
کانگریس لیڈر کا کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ’سی او ای ایم پی ٹی‘ کمپنی ٹینڈر کے لیے اہل قرار پائی۔






