
متوفی مان سنگھ کی بیٹی رینو نے بتایا کہ ان کے والد کو دیر رات فیکٹری میں کام کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب گیس کا اخراج ہوا تب فیکٹری مالک خود ہی تمام متاثرین کو اسپتال لے کر پہنچے تاہم گھر کے کسی فرد کو اطلاع نہیں دی گئی۔ وہیں صبح جب اس کے والد گھر واپس نہ آئے تو فیکٹری جا کر دیکھا۔ اس دوران پتا چلا کہ کچھ مزدور گیس کے اخراج کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے ہیں اور انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ رینو نے بتایا کہ جب وہ اسپتال پہنچی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے والد مان سنگھ اور امت کی موت ہو چکی ہے۔ معاملے میں افسران کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید کارروائی کی جارہی ہے۔






