ہندوستانی سیاست میں پنڈت جواہر لال نہرو کا نام صرف آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر ہی نہیں، بلکہ جدید ہندوستان کی فکری ساخت کے اہم معمار کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔ انہوں نے پارلیمانی جمہوریت، سیکولرزم، سائنسی طرز فکر، سرکاری شعبے، پنج سالہ منصوبوں اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی جیسے تصورات کو ہندوستانی ریاست کی بنیاد بنایا۔ ان کے سامنے بڑے چیلنجز تھے، انہیں نظر انداز کر کے ان کا جائزہ لینا یک طرفہ اور تعصب پر مبنی ہوگا۔
اب ستم ظریفی یہ ہے کہ آزادی کی تقریباً 8 دہائیوں بعد بھی بی جے پی اور اس سے وابستہ نظریاتی حلقوں کے اندر حکمت عملی کے تحت نہرو کے تئیں شدید اختلاف، تنقید اور کئی بار نفرت کی شعوری تشکیل واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ یہ نہرو دشمنی صرف کسی تاریخی شخصیت سے اختلاف نہیں، بلکہ ہندوستانی قوم کی سمت اور کردار کے بارے میں دو متضاد نظریات کے درمیان کشمکش بھی ہے۔
نہرو ہندوستان کو ایک جدید، کثرت پسند اور سائنسی قوم کے طور پر ترقی دینا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک ہندوستان صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر قائم قوم نہیں تھا، بلکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں، نسلی گروہوں اور عقائد کا ایک جمہوری اتحاد تھا۔ وہ سیکولرزم کو ریاستی غیر جانبداری کے طور پر دیکھتے تھے۔ اس کے برعکس راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس سے متاثر سیاسی دھارے ہندوستان کو بنیادی طور پر ایک ’ہندو راشٹر‘ کے طور پر دیکھنے کی طرف مائل رہے ہیں۔ اسی وجہ سے نہرو کا سیکولر تصور ان کے لیے ایک نظریاتی چیلنج بن گیا۔ نہرو نے آئین، پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں کو سب سے زیادہ اہمیت دی، جبکہ ہندوتوا کی سیاست ثقافتی قوم پرستی کو زیادہ اہمیت دیتی رہی ہے۔ اس نظریاتی ٹکراؤ نے وقت کے ساتھ نہرو مخالف رویے کو ایک مستقل سیاسی طرز عمل میں بدل دیا۔
بی جے پی اور اس سے وابستہ حلقوں کی جانب سے نہرو پر تنقید کی ایک بڑی بنیاد یہ دلیل ہے کہ انہوں نے ہندوستان کی تقسیم، کشمیر مسئلے، چین پالیسی اور کانگریس کی مرکزیت کے حوالے سے سنگین غلطیاں کیں۔ ان مسائل پر دیانت دارانہ بحث ہو سکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ تاریخ کا کوئی بھی ہیرو تنقید سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تنقید تاریخی تجزیے کے بجائے ایک سطحی سیاسی مہم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ آج کی سیاست میں نہرو کو تقریباً ہر قومی مسئلے کی جڑ قرار دینے کا رجحان دکھائی دیتا ہے۔ بے روزگاری، سرحدی تنازعات، نسلی کشیدگی، معاشی عدم مساوات یا انتظامی ناکامیوں تک کو نہرو کی ’غلط پالیسیوں‘ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر تاریخ کو پیچیدہ عمل کے بجائے ایک فرد کی ناکامیوں تک محدود کر دیتا ہے۔
درحقیقت تاریخ کبھی بھی یک رخی نہیں ہوتی۔ ہندوستان جیسے وسیع اور تقسیم سے متاثر ملک میں 1947 کے بعد کے چیلنجز انتہائی دشوار تھے۔ فرقہ وارانہ تشدد، مہاجرین کا بحران، ریاستوں کا انضمام، غربت، ناخواندگی اور نوآبادیاتی پسماندگی کے درمیان نہرو نے جدید اداروں کی بنیاد رکھی۔ ان کی پالیسیوں کی کچھ حدیں تھیں، لیکن کامیابیوں کو نظر انداز کر کے صرف الزام تراشی کرنا تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔ بی جے پی کے بیانیے میں اکثر سردار ولبھ بھائی پٹیل کو نہرو کے مخالف کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر پٹیل وزیر اعظم بنتے تو ہندوستان زیادہ مضبوط اور فیصلہ کن قوم بنتا۔ جبکہ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ نہرو اور پٹیل کے درمیان اختلافات ضرور تھے، لیکن وہ ایک دوسرے کے معاون بھی تھے۔ دونوں نے مل کر آزاد ہندوستان کی بنیاد رکھی۔ نہرو اور پٹیل کے تعلقات کو آج جس طرح ’قوم پرست بمقابلہ لبرل‘ کشمکش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، وہ بڑی حد تک موجودہ سیاسی تشکیل ہے۔ اس کا مقصد کانگریس کی تاریخی وراثت کو تقسیم کرنا اور نہرو کے مرکزی کردار کو کم تر ثابت کرنا ہے۔
نہرو کی شخصیت ہندوستانی جمہوریت کی اس روایت کی نمائندگی کرتی ہے جس میں اختلاف رائے، دانشوری اور کثرت پسندی کو اہمیت دی جاتی تھی۔ وہ تنقید سے خوف زدہ نہیں ہوتے تھے۔ پارلیمنٹ میں تیز و تند مباحث ہوتے تھے، پریس نسبتاً آزاد تھا اور جامعات میں نظریاتی تنوع کو جگہ دی جاتی تھی۔ موجودہ دور کی جارحانہ قوم پرستانہ سیاست کے لیے یہ روایت غیر آرام دہ محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے نہرو صرف ایک تاریخی لیڈر نہیں، بلکہ ایک متبادل سیاسی ثقافت کی علامت بن جاتے ہیں۔ نہرو کی یادداشت کو کمزور کرنا دراصل اس لبرل جمہوری روایت کو چیلنج کرنا بھی ہے جو ہندوستانی جمہوریہ کی بنیادی روح رہی ہے۔
موجودہ سیاست میں ایک اور سبب بھی اہم ہے۔ آج سیاسی پارٹیاں اپنی موجودہ قیادت کو ’تاریخی طور پر سب سے زیادہ فیصلہ کن‘ ثابت کرنا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ماضی کے لیڈروں کو کمزور یا ناکام ثابت کرنا ایک مفید حکمت عملی بن جاتی ہے۔ نہرو چونکہ آزاد ہندوستان کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہے اور ان کی بین الاقوامی ساکھ بھی تھی، اس لیے وہ اس تقابل کے مرکز میں آ جاتے ہیں۔ اس لیے نہرو مخالفت صرف نظریاتی اختلاف نہیں، بلکہ سیاسی جواز حاصل کرنے کی حکمت عملی بھی ہے۔ موجودہ قیادت کو جتنا زیادہ ’نیا‘ اور ’فیصلہ کن‘ دکھانا مقصود ہوتا ہے، اتنا ہی نہرو کو ’کمزور‘ اور ’ناکام‘ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جمہوریت میں کسی بھی تاریخی شخصیت پر تنقید فطری اور ضروری ہے۔ نہرو کی معاشی پالیسیوں، چین سے متعلق اندازوں، کانگریس کی مرکزیت یا کشمیر پالیسی پر سنجیدہ بحثیں ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہونی چاہئیں۔ لیکن تنقید اس وقت دشمنی میں بدل جاتی ہے جب وہ حقائق کے بجائے جذباتی پروپیگنڈے پر مبنی ہو جائے۔
نہرو کو صرف ایک ویلن کے طور پر پیش کرنا اتنا ہی غلط ہے جتنا انہیں ایک بے عیب عظیم شخصیت مان لینا۔ تاریخ کو متوازن نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نہرو جدید ہندوستان کے معمار بھی تھے اور محدود حالات والے سیاست دان بھی۔ ان کی خدمات اور غلطیوں، دونوں کو سمجھے بغیر ہندوستان کی جمہوری ترقی کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ بی جے پی کی نہرو دشمنی ہندوستانی سیاست کے گہرے نظریاتی تصادم کا نتیجہ ہے۔ یہ تصادم صرف 2 لیڈروں یا پارٹیوں کا نہیں، بلکہ ہندوستان کی روح کے 2 مختلف تصورات کا تصادم ہے… ایک کثرت پسند، جمہوری اور سیکولر ہندوستان کا تصور، اور دوسرا ثقافتی قوم پرستی پر مبنی تصور۔
نہرو پر تنقید جمہوری حق ہے، لیکن تاریخ کو سیاسی پروپیگنڈے کا آلہ بنا دینا خطرناک ہے۔ کسی بھی ملک کی پختگی اسی میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کو نہ اندھی عقیدت کے ساتھ دیکھے اور نہ ہی نفرت کے ساتھ۔ ہندوستان کا مستقبل بھی شاید اسی متوازن تاریخی شعور پر منحصر ہوگا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































