’’ہم تو تباہ ہو گئے ہیں… اور سننے والا کوئی نہیں۔‘‘ تکلیف میں ڈوبے ہوئے یہ الفاظ ایک آٹو رکشہ ڈرائیور نے 29 مئی کو کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سے ملاقات کے دوران کہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے اس ملاقات کی ویڈیوز اور کچھ تصویریں یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی ہیں۔ ’ایکس‘ پر جاری کردہ ایک پوسٹ میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’ہم تو تباہ ہو گئے، اور سننے والا کوئی نہیں… کل دوپہر کے کھانے پر ایک آٹو ڈرائیور بھائی نے یہ کہا۔ ایک جملہ میں ملک کے لاکھوں غریبوں کی پوری کہانی آ گئی۔‘‘
اس سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے آٹو ڈرائیور کے اس کرب کو مختصر الفاظ میں ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، جو انھوں نے بات چیت کے دوران خود محسوس کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’آمدنی کا میٹر بند، مہنگائی کا بریک فیل، اور سننے والی حکومت بہری۔ سی این جی سے ایل پی جی تک، بچوں کی پڑھائی سے علاج تک، دودھ سے لے کر کھانے کے تیل تک… ہر بڑھتا روپیہ اس کے بجٹ پر، ان کی رسوئی پر براہ راست حملہ ہے۔‘‘
’ایکس‘ پر جاری کردہ اس پوسٹ میں راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے اور موجودہ حالات کے لیے انھیں ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’مہنگائی مَین مودی جی مشورہ دیتے ہیں– پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کیجیے… اور جو لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کی ریڑھ ہیں، وہ آج مہنگائی کے بوجھ تلے ٹوٹ رہے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’آج ان کی تھالی میں روٹی-دال کے ساتھ ایک سوال بھی ہے– کل کی روٹی کہاں سے آئے گی؟‘‘
کانگریس نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر راہل گاندھی کی آٹو ڈرائیورس سے ملاقات کی کچھ تصویریں اور ویڈیوز شیئر کی ہیں۔ ’ایکس‘ پر جاری کردہ ایک پوسٹ میں پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آٹو رکشہ ڈرائیورس سے ملاقات کر ان کے مسائل پر بات کی۔ مودی حکومت کی پالیسیوں نے آمدنی کا میٹر بند کر مہنگائی کا بریک فیل کر دیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’ہم ان محنت کش لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہر چیلنج کا سامنا مل کر کریں گے۔‘‘ ایک دیگر پوسٹ میں کانگریس نے کہا ہے کہ ’’نریندر مودی کے ’وصولی ماڈل‘ سے آٹو ڈرائیور بھائیوں میں بہت غصہ ہے، بہت ناراضگی ہے، جو اب دھیرے دھیرے باہر آ رہا ہے۔ ہم اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں… مودی حکومت کے ’وصولی ماڈل‘ کے خلاف مل کر لڑیں گے۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
































