اوڈیشہ کے قبائلیوں کی جدوجہد اور ترقی کا ماڈل

AhmadJunaidJ&K News urduMay 29, 2026362 Views


یہ معاملہ صرف کان کنی تک محدود نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کا ترقیاتی ماڈل آئین کے تحت حاصل حقوق، قبائلی خودمختاری اور جمہوری رضامندی پر مبنی ہوگا یا پھر ریاستی طاقت اور کارپوریٹ مفادات کے گٹھ جوڑ پر؟

قبائلی معاشرے کے لیے زمین محض ایک جائیداد نہیں ہوتی۔ ان کے نزدیک پہاڑ دیوتا، جنگلات زندگی اور دریا ثقافت کی علامت ہیں۔ اسی لیے جب کان کنی کے منصوبے ان علاقوں میں پہنچتے ہیں تو قبائلی برادریاں اسے صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ اپنے وجود پر حملہ تصور کرتی ہیں۔ نیام گیری تحریک اسی مزاحمت کی سب سے بڑی علامت بن کر سامنے آئی۔ ڈونگریا کونڈھ برادری نیام گیری پہاڑ کو اپنا مقدس دیوتا مانتی ہے۔ جب ویدانتا کمپنی کو وہاں باکسائٹ کی کان کنی کی اجازت دینے کا عمل شروع ہوا تو مقامی آبادی نے برسوں تک اس کے خلاف جدوجہد کی۔

سنہ 2013 میں سپریم کورٹ نے اوڈیشہ مائننگ کارپوریشن بنام وزارتِ جنگلات و ماحولیات مقدمے میں ایک تاریخی فیصلہ سنایا۔ عدالت نے گرام سبھاؤں کو یہ اختیار دیا کہ وہ خود طے کریں کہ مجوزہ کان کنی سے ان کے مذہبی اور اجتماعی حقوق متاثر ہوں گے یا نہیں۔ یہ صرف ایک قانونی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ پہلی مرتبہ ملک کے سب سے زیادہ حاشیے پر موجود طبقوں کی آواز کو اعلیٰ ترین عدالتی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...