
جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ نیٹ یو جی 2026 کی منسوخی اور این ٹی اے کی تنظیمی ساخت سے متعلق عرضیوں کی سماعت کر رہا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ملک میں کئی ادارے عارضی انداز میں کام کرتے ہیں، جبکہ اصل ضرورت ایسے مضبوط اداروں کی ہے جو افراد کے بجائے مستقل نظام کی بنیاد پر چلیں۔
سماعت کے دوران جسٹس نرسمہا نے کہا کہ جب تک ذمہ داری واضح طور پر طے نہیں ہوگی، مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ کسی ادارے کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا، بلکہ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ کون سا فرد کس ذمہ داری کا حامل ہے۔






