سابق وزیر سیاحت ویلامنڈی نٹراجن ’ٹی وی کے‘ میں شامل

AhmadJunaidJ&K News urduMay 28, 2026360 Views


ٹی وی کے میں شامل ہونے کے بعد نٹراجن نے کہا کہ ’’جے للیتا کے انتقال کے بعد اے آئی اے ڈی ایم کے مسلسل اندرونی تقسیم اور انتخابی شکستوں سے نکل نہیں پائی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ویلامنڈی نٹراجن، تصویر/آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>ویلامنڈی نٹراجن، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

اے آئی اے ڈی ایم کے کو ایک اور سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ تمل ناڈو کے سابق وزیر سیاحت اور سینئر رہنما ویلامنڈی نٹراجن نے برسر اقتدار تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کا دامن تھام لیا ہے۔ اس سے اپوزیشن خیمے میں سیاسی ہلچل مزید تیز ہو گئی ہے۔ تروچی کے اہم رہنما رہے نٹراجن طویل عرصے تک اے آئی اے ڈی ایم کے سے وابستہ رہے اور انہیں وسطی تمل ناڈو کا ایک مضبوط زمینی آرگنائزر مانا جاتا تھا۔ وہ 2016 میں تروچی ایسٹ اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور بعد میں اس وقت کی وزیر اعلیٰ جے جے للیتا کی قیادت والی اے آئی اے ڈی ایم کے حکومت میں وزیر سیاحت بھی رہے۔

جے للیتا کے انتقال کے بعد نٹراجن نے ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ کے اندرونی اقتدار کی جنگ کے دوران سابق وزیر اعلیٰ او پنیریسلوم کا ساتھ دیا۔ تاہم 2026 کے اسمبلی انتخاب سے قبل پنیریسلوم کے ڈی ایم کے میں شامل ہونے کے بعد وہ ایڈا پادی کے پلانی سوامی کی قیادت والے اے آئی اے ڈی ایم کے خیمے میں واپس لوٹ آئے تھے، لیکن پارٹی کے اندر مسلسل جاری اندرونی بحران کی وجہ سے اب انہوں نے ٹی وی کے کا رخ کر لیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق نٹراجن نے بدھ کی دیر رات ٹی وی کے کے جنرل سکریٹری این آنند سے ملاقات کی اور باقاعدہ طور پر پارٹی میں شامل ہو گئے۔

ٹی وی کے میں شامل ہونے کے بعد نٹراجن نے کہا کہ جے للیتا کے انتقال کے بعد اے آئی اے ڈی ایم کے مسلسل اندرونی تقسیم اور انتخابی شکستوں سے نکل نہیں پائی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میں طویل عرصے سے پارٹی میں ہوں۔ جے للیتا کے انتقال کے بعد پارٹی ٹوٹ گئی اور اسے مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے کئی بار مشورہ دیا کہ تمام لیڈران مل کر مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں، لیکن میری بات نہیں مانی گئی۔ انتخابات کے بعد بھی پارٹی میں تقسیم کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ ٹی وی کے قیادت کی تعریف کرتے ہوئے نٹراجن نے کہا کہ پارٹی نے پیریار، سی این انادورئی، ایم جی رام چندرن اور جے للیتا جیسے رہنماؤں کے نظریات کو اپنایا ہے، جس سے متاثر ہو کر انہوں نے پارٹی جوائن کرنے کا فیصلہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ نٹراجن کا یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اے آئی اے ڈی ایم کے پہلے ہی سیاسی عدم استحکام کا سامنا کر رہی ہے۔ حال ہی میں اس کے 4 اراکین اسمبلی پارٹی چھوڑ کر ٹی وی کے میں شامل ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اے آئی اے ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ دھنپال نے اس پورے معاملے کی تحقیقات مرکزی ایجنسیوں سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ تمل ناڈو کی سیاست میں بڑے پیمانے پر ’ہارس ٹریڈنگ‘اور پیسے کے لین دین کے ذریعے پارٹی لیڈران کو توڑا جا رہا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...