مذاکرات کے درمیان امریکہ نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بدھ کی رات ایران کے اندر ایک اور بڑے فضائی حملے کو انجام دیا گیا۔ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 1:30 بجے بندر عباس شہر کے مشرقی حصے سے 3 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایک امریکی افسر نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی فوج نے رات بھر ایران میں نئے حملے کیے، جس میں ایک ایسے فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا جس کے بارے میں افسران کا خیال تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں امریکی فوج اور تجارتی بحری آمد و رفت کے لیے خطرہ پیدا کر رہا تھا۔ یہ کارروائی اپنے دفاع میں کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس نئے حملے کے دوران امریکی فوج نے ایران کی طرف سے لانچ کیے گئے کئی مہلک ڈرونز کو بھی ہوا میں ہی مار گرایا۔ اس امریکی حملے کی تصدیق ایرانی میڈیا نے بھی کی ہے۔ ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق جنوبی ایران کے اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم بندر عباس کے مشرقی علاقے میں مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 1:30 بجے مسلسل 3 تیز دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ دھماکوں کے فوراً بعد ایرانی فوج کا ایئر ڈیفنس سسٹم کئی منٹوں تک ایکٹو رہا اور آسمان میں فائرنگ کی گئی۔ تاہم ایرانی افسران نے فی الحال نقصان کی کوئی باضابطہ معلومات شیئر نہیں کی ہیں اور معاملے کی جانچ کی بات کہی ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب محض 2 روز قبل بھی امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے جنوبی ایران میں میزائل لانچ سائٹس اور ایرانی بحریہ کی ان کشتیوں کو تباہ کیا تھا، جو مبینہ طور پر سمندر میں بارودی مائنز بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا تھا کہ یہ کارروائی امریکی فوجیوں کی حفاظت کے لیے ضروری تھی۔ جبکہ ایران نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ ایران نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی جارحانہ کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔
غور طلب ہے کہ یہ پوری فوجی کارروائی اس وقت ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے عمان اور قطر کی ثالثی سے بیک-چینل سفارتی بات چیت چل رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر ایک سخت اور طویل مدتی معاہدہ کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس کے دوران ٹرمپ کے تیور کافی سخت نظر آئے۔ انہوں نے امن مذاکرات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اس (مجوزہ معاہدے) سے ابھی مطمئن نہیں ہوں۔ اگرچہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہو، لیکن یا تو ہمیں اپنی شرائط پر اسے حتمی شکل دینی ہوگی، ورنہ ہمیں واپس جا کر اس کام کو مکمل طور پر (فوجی طاقت سے) ختم کرنا ہوگا۔‘‘
ٹرمپ نے ان ایرانی دعووں کو بھی سرے سے مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مستقبل کے معاہدے کے تحت ایران اور عمان مل کر ہرمز کے شپنگ روٹ کو کنٹرول کریں گے۔ ٹرمپ نے صاف کیا کہ یہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہر حال میں پوری دنیا کی تجارت کے لیے کھلی رہے گی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔































