غزہ کی وزارت زراعت کے ترجمان رفعت اسالیا نے کہا کہ اس سال قربانی کے جانوروں کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس کی وجہ کم سپلائی، مویشی پروری کا بڑھتا خرچ، چارے اور ٹرانسپورٹ کی مہنگائی اور فارموں کا بند ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بھیڑ یا بکری جنگ سے پہلے تقریباً 1000 شیکل میں ملتی تھی، اس کی قیمت اب 11000 سے 15000 شیکل تک پہنچ گئی ہے۔‘‘ غزہ میں گیس کی شدید قلت کی وجہ سے گھر میں کھانا پکانا اور بیکنگ کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ جنوبی غزہ میں اہل خانہ کے ساتھ پناہ گزیں ابو احمد وافی نے کہا کہ ’’بازاروں میں کاک، مامول اور مٹھائیاں تو ہیں لیکن پہلے ہم انہیں گھر پر بنایا کرتے تھے۔ جنگ کے سبب اب چیزیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں اور تیار کرنے کے لیے گیس بھی نہیں ہے۔‘‘






