امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر ’وائٹ ہاؤس‘ کے باہر سیکریٹ سروس کی چوکی پر فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت نصیرے بیسٹ کے طور پر کی گئی ہے۔ نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق حملے کے پیچھے محرکات تاحال واضح نہیں ہیں تاہم رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ بندوق بردار ذہنی مریض تھا۔
اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص سیکریٹ سروس چیک پوائنٹ کے آس پاس اکثر آنے جانے کی وجہ سے افسران سے پہچان ہوگئی تھی۔ تفتیش کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ وہ شخص خود کو یسوع مسیح کا جدید دور کا اوتار مانتا ہے۔ امریکی خفیہ سروس کے مطابق مشتبہ شخص شام تقریباً 6 بجے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب پہنچا اور اپنے بیگ سے ہتھیار نکال کر وہاں تعینات افسران پر فائرنگ شروع کردی۔ فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس دوران تقریباً 30 راؤنڈ فائر ہوئی جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
نصیرے بیسٹ نے اس سے قبل بھی اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز میں صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس نے یہ دھمکی 9 دسمبر 2025 کو ایک ٹک ٹاک ویڈیو میں پوسٹ کی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ اگر وہ بٹلر کے قتل واقعہ کا حملہ آور ہوتا تو ٹرمپ مر چکے ہوتے۔ اس سے قبل عدالت نے بیسٹ کے خلاف وائٹ ہاؤس کیمپس سے دور رہنے کا حکم جاری کیا تھا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق 21 سالہ بیسٹ نے اس حکم کی خلاف ورزی کی۔ 24 مئی (ہندوستانی وقت کے مطابق) سیکرٹ سروس کے افسران نے بیسٹ کو 17 ویں اسٹریٹ نارتھ ویسٹ پر عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا۔ اس نے گن نکالی اور گولیاں چلائیں جس کی وجہ سے ایک راہگیر کو شدید زخم آئے۔
سیکریٹ سروس کے افسران نے فوری طور پر جوابی فائرنگ کرکے حملہ آور نصیر بیسٹ کو قابو کر لیا۔ بیسٹ کو زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ واقعے کے بارے میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ حکام فی الحال معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور تمام تفصیلات دستیاب ہوتے ہی عوام کے ساتھ شیئر کریں گے۔ کاش پٹیل نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کر کے کہا کہ ایف بی آئی جائے وقوعہ پر موجود ہے اور وائٹ ہاؤس کیمپس کے قریب ہوئی گولی باری کی واردات کے بارے میں سیکریٹ سروس کا تعاون کر رہی ہے۔ جیسے ہی ہمیں معلومات ملیں گی ہم عوام کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت صدر ڈونالڈ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کو آج اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے بہاماس روانہ ہونا تھا مگر ایران سے ممکنہ معاہدے کے باعث انہوں نے واشنگٹن میں ہی قیام کو ترجیح دی۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صرف ایک ماہ قبل بھی ایک مسلح شخص نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ سالانہ صحافتی ڈنر کےدوران اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی جسے سیکیورٹی حکام نے ناکام بنا دیا تھا۔ صدر ٹرمپ اس تقریب میں موجود تھے جنہیں بعد میں ہنگامی طور پر سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنے حصار میں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































