مودی ہے تو مہنگائی ممکن ہے، 4000 کا گیس سلنڈر ممکن ہے، بچوں کی خودکشی ممکن ہے: کانگریس

AhmadJunaidJ&K News urduMay 23, 2026359 Views


کانگریس لیڈر ڈالی شرما نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد کہا تھا– میری قسمت ہے، خام تیل کی قیمت گھٹ گئی۔ لیکن عوام کی قسمت نہیں بدلی۔ مودی حکومت نے ہندوستانی عوام کو دھوکہ دیا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>مودی حکومت میں مہنگائی عروج پر، علامتی تصویر (اے آئی)</p></div><div class="paragraphs"><p>مودی حکومت میں مہنگائی عروج پر، علامتی تصویر (اے آئی)</p></div>

i

user

google_preferred_badge

’’ہر روز صبح جب ہماری آنکھیں کھلتی ہیں تو نریندر مودی پٹرول-ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمت بڑھا کر دھماکہ کرتے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ عوام کو راحت دینے کا کام کیا۔ جب خام تیل کی قیمت 140 ڈالر فی بیرل تھی تو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حکومت نے عوام کو سبسیڈی دی۔ مودی حکومت لگاتار عوام کو لوٹ رہی ہے۔ آج آپ 100 روپے میں پورا ناشتہ نہیں کر سکتے۔‘‘ یہ بیان کانگریس لیڈر ڈالی شرما نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’مودی حکومت میں جب خام تیل کی قیمت کم تھی تو ملک میں پٹرول-ڈیزل کی قیمت نہیں گھٹائی۔ تیل کمپنیوں نے خوب منافع کمایا، لیکن عوام کو راحت نہیں ملی۔ آج جہاں نیپال جیسا ملک پٹرول و ڈیزل سستا کر رہا ہے، وہیں نریندر مودی ہر چیز کی قیمت بڑھا رہے ہیں۔‘‘

ڈالی شرما نے مودی حکومت کے فیصلوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت نے عوام سے کہا ہے وَرک فروم ہوم کیجیے۔ اب نریندر مودی بتائیں کہ اصل میں کتنے لوگ وَرک فروم ہوم کر سکتے ہیں اور کن طبقات کے لیے یہ ممکن ہے۔ مہاجر مزدور اور کنسٹرکشن کا کام کرنے والے مزدور گھر سے کام نہیں کر سکتے، جبکہ انھیں مہنگے گیس سلنڈر خریدنے پڑ رہے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ مزدور گاؤں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ نریندر مودی اور ان کی پارٹی کے لیڈران صرف ایونٹ بازی کرنا جانتے ہیں۔ آج عوام سڑک پر ہے، لیکن مودی حکومت کے وزراء مست ہیں۔ عوام پوچھ رہی ہے کہ پٹرول، گیس کب سستی ہوں گی، کھانا کیسے سستا ہوگا، گھر کیسے چلے گا، بچوں کی پڑھائی کیسے ہوگی؟ لیکن ان سوالوں کے جواب نہیں مل رہے ہیں۔‘‘

منموہن سنگھ کی حکومت کو یاد کرتے ہوئے ڈالی شرما نے کہا کہ ’’جب ملک میں مہنگائی کا بحران تھا، تب منموہن سنگھ منریگا لائے، لوگوں کو روزگار دیا، لیکن مودی حکومت نے اس منصوبہ کو برباد کر دیا۔ آج جب ملک کو بحران کا سامنا ہے، لگاتار قیمتیں بڑھ رہی ہیں، گیس اور تیل کی قلت ہے تو ہندوستان سے تیل دوسرے ممالک کو بھیجا جا رہا ہے۔ دراصل مودی حکومت کو عوام کی فکر ہی نہیں ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’یو پی اے حکومت میں جب خام تیل کی قیمت بڑھ رہی تھی، تو عوام کو راحت دی گئی۔ نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد کہا کہ میری قسمت ہے، خام تیل کی قیمت گھٹ گئی۔ لیکن عوام کی قسمت نہیں بدلی۔ مودی حکومت نے ہندوستان کی عوام کو دھوکہ دیا، انھوں نے اپنا ذخیرہ بھرا، اپنی تشہیر کی، لیکن عوام کے لیے کچھ نہیں کیا۔‘‘

ملک کی موجودہ حالت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’آج مودی ہے تو مہنگائی ممکن ہے، 4 ہزار کا گیس سلنڈر ممکن ہے، بچوں کی خودکشی ممکن ہے۔ مودی حکومت نے اپنے سرمایہ دار متروں کا ہزاروں کروڑ روپے معاف کر دیا، لیکن عوام کی سبسیڈی چھین لی۔‘‘ پی ایم مودی پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی کہتے ہیں– سونا مت خریدو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سونے کی قیمت 1.5 لاکھ روپے کے پار ہے۔ متوسط طبقہ کا شخص ویسے بھی سونا نہیں خرید پا رہا ہے۔ نریندر مودی ہر بار اپنی ذمہ داری سے بھاگتے ہیں۔ بیرون ممالک گھومتے ہیں، تشہیر کرتے ہیں، لیکن مہنگائی کم کرنے کی بات نہیں کرتے۔‘‘

ملک میں مہنگائی کی مثالیں بھی پریس کانفرنس کے دوران ڈالی شرما نے پیش کیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کی حقیقت یہ ہے کہ دودھ کی قیمتیں 3 فیصد بڑھ گئی ہیں، آٹا کی قیمت 12.50 فیصد تک بڑھ گئی ہے، چاول کی قیمت 12.50 فیصد تک بڑھ گئی ہے، تور دال کی قیمت 15 فیصد تک بڑھ گئی ہے، سبزیوں کی قیمتیں 10 سے 25 فیصد تک بڑھ گئی ہیں، کھانے میں استعمال ہونے والے تیل کی قیمتوں میں 12 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں ’’ملک میں زبردست مہنگائی ہے، لیکن حکومت صرف پی آر میں مصروف ہے۔ مودی حکومت اور ان کے لیڈران صرف دوسرے ممالک کی بات کرتے ہیں، لیکن ہندوستان میں قیمتیں کیوں نہیں گھٹا پا رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگا ہونے سے ہر سامان کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ روزمرہ کی چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں۔‘‘

پریس کانفرنس کے آخر میں انھوں نے کہا کہ ’’ملک میں ٹرانسپورٹ، ٹیکسی اور آٹو والے ہڑتال کر رہے ہیں۔ آج گھر کا بجٹ گھٹ گیا ہے اور قرض بڑھ گیا ہے، جس کے سبب مستقبل غیر محفوظ ہو رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتی ہیں کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے بعد ایک غریب کنبہ کے بچے نے خودکشی کر لی۔ حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے اس کنبہ سے بات کی تو پتہ چلا کہ فیملی پر 11 لاکھ کا قرض ہے۔ راہل گاندھی نے انھیں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ لیکن نریندر مودی جی بتائیں، کیا یہی ہیں اچھے دن؟‘‘

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...