
عدالت میں دائر مفاد عامہ کی عرضی میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ کمپنیاں اور برآمد کنندگان گھریلو بازار کے لیے دستیاب اینٹی کینسر دوائیں خرید کر جانچ اور تصدیق کے نظام میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عرضی کے مطابق ان دواؤں کو قانونی برآمدی سامان کے ساتھ ملا کر بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے، جس سے ملک کے اندر ضروری دواؤں کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت، مرکزی دوا معیارات کنٹرول تنظیم، بیرونی تجارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل، مرکزی بالواسطہ ٹیکس اور کسٹمز بورڈ، محکمہ محصولات انٹلیجنس اور جی ایس ٹی انٹلیجنس ڈائریکٹوریٹ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے تمام متعلقہ اداروں سے پوچھا ہے کہ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور انہیں روکنے کے لیے نگرانی کا کیا نظام موجود ہے؟





