پی ایم مودی سے سوال کرنے والی نارویجین صحافی ٹرولنگ اور ذاتی حملوں کی زد میں

AhmadJunaidJ&K News urduMay 20, 2026362 Views


پی ایم مودی سے میڈیا کی آزادی پر سوال پوچھنے کے بعد نارویجین صحافی ہیلی لیونگ سوشل میڈیا پر حملوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہیں ’اینٹی انڈیا‘ اور ’سیاسی ایجنٹ‘ کہا جا رہا ہے۔ تنقید اب پیشہ ورانہ اختلاف سے آگے بڑھ کر ذاتی زندگی پر حملے اور کردار کشی کی مہم تک پہنچ گئی ہے۔ یہاں تک کہ صحافت کے پیشے سے وابستہ بعض اینکر بھی ان کےسوال پوچھنے سے ناراض ہیں۔

تصویر اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ہے۔

نئی دہلی: نارویجین صحافی ہیلی لیونگ کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی سے پریس کی آزادی اور سوالوں کے جواب دینے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال نے اب ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کرلیا ہے۔ سوال پوچھے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ٹرولنگ، ذاتی حملے اور کردار کشی کی مہم تیز ہو گئی ہے۔ انہیں ’اینٹی انڈیا‘، ’سیاسی ایجنٹ‘، ’اسپانسرڈ صحافی‘ اور ’پروپیگنڈہ کرنے والی‘ تک کہا جا رہا ہے۔

اس پوری مہم میں صرف سوشل میڈیا کے حکومت حامی ہینڈل ہی نہیں بلکہ ہندوستانی میڈیا اور صحافت کی دنیا کے کچھ معروف نام بھی شامل ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا، جب سوموار 18 مئی کو اوسلو میں وزیراعظم نریندر مودی اور ناروے کے وزیراعظم کے مشترکہ پریس بیان کے بعد ناروے کے اخبار دگساویسن کی صحافی ہیلی لیونگ نے مودی سے سوال پوچھا،’وزیراعظم مودی، آپ دنیا کے سب سے آزاد پریس کے سوال کیوں نہیں لیتے؟‘

مودی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا اور آگے بڑھ گئے۔ بعد میں لیونگ نے ہندوستانی وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ میں بھی پریس کی آزادی اور انسانی حقوق سے متعلق سوال اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہاں بھی انہیں سیدھا جواب نہیں ملا۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ردعمل کا سیلاب آ گیا۔ دائیں بازو کے کئی ہینڈل نے ان کے پیشہ ورانہ کام کے بجائے ان کی ساکھ، ذاتی زندگی اور نیت پر سوال اٹھانے شروع کر دیے۔

بی جے پی حامی ایکس ہینڈل’ان کاگ نیٹو‘ نے انہیں ’بے ایمان صحافت‘ کی مثال قرار دیتے ہوئے ان کے اخبار دگساویسن کو ’چھوٹا اور غیر اہم‘ بتایا۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایسے اخبار کو اس قسم کے پروگراموں میں مدعو نہیں کیا جاتا اور لیونگ ’سیاسی ایجنٹوں کی بھیجی ہوئی‘ ہو سکتی ہیں۔ پوسٹ میں اخبار کی قارئین تعداد اور مالی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ان کا سوال صحافت نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند مداخلت تھا۔

دائیں بازو کی ویب سائٹ اوپ انڈیا نے بھی ایک مضمون میں سوال اٹھایا کہ کیا یہ ’صحافت تھی یا مودی کے ناروے دورے کے دوران کیا گیا ایک منصوبہ بند ہندوستان مخالف تماشا؟‘ مضمون میں لیونگ کے سوشل میڈیا پروفائل، ان کے فالوورز اور دیگر صحافیوں کے ساتھ ان کے آن لائن روابط کا حوالہ دے کر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایک اور سوشل میڈیا صارف میگھنا نے دعویٰ کیا کہ لیونگ وزیراعظم مودی کے دورے کا استعمال اپنے سوشل میڈیا فالوورز بڑھانے کے لیے کر رہی ہیں۔ انہوں نے لکھا،’جو خاتون پہلے پیزا ریویو کرتی تھی، وہ اب مودی مخالف پروپیگنڈا چلا رہی ہیں۔‘

سوال سے ناراض صحافی!

اس دوران ہندوستانی ٹی وی میڈیا کے کچھ نمایاں چہرے بھی اس بحث میں شامل ہو گئے۔

آج تک کی سینئر صحافی انجنا اوم کشیپ نے اپنے ایک پروگرام میں سوال اٹھایا کہ جس ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کا حوالہ لیونگ نے دیا، اس کی فنڈنگ مبینہ طور پر جارج سوروس سے وابستہ تنظیموں کی جانب سے ہوتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیونگ نے اپنے گزشتہ چار سالہ کیریئر میں کبھی پریس کی آزادی یا میڈیا سنسرشپ جیسے موضوعات پر سوال نہیں اٹھائے ،  لیکن اچانک مودی کے معاملے میں سرگرم ہو گئی ہیں۔

انجنا کے پروگرام کا عنوان تھا،’ناروے میں سوال کے پیچھے سازش؟ مودی سوال سے بچ نکلے یا یہ جھوٹ؟ سوال پوچھنے والی صحافی کا سوروس کنکشن۔‘

 

سرکار کے نشریاتی ادارے ڈی ڈی نیوز پر نشر ہونے والے اپنے پروگرام میں سدھیر چودھری نے بھی تقریباً یہی دلیل دہراتے ہوئے کہا کہ ہیلی لیونگ کا رویہ ’صحافی جیسا کم اور ایکٹوسٹ جیسا زیادہ‘ تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ایسے لوگ صحافیوں کو ملنے والی رسائی کا غلط استعمال کرتے ہیں۔‘ یہی نہیں، انہوں نے مغربی ممالک کو یہ مشورہ بھی دیا کہ ’ہیلی لیونگ جیسے لوگوں کی آزادی اظہار پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ انجنا اوم کشیپ اور سدھیر چودھری، دونوں نے اپنے اپنے پروگراموں میں ایک جیسے دلائل دیے اور ایک ہی طرح کے الزامات لگائے۔ دونوں نے تقریباً ایک جیسی اسکرپٹ دہرائی۔

انڈیا ٹوڈے کی مینیجنگ ایڈیٹر ماریہ شکیل نے بھی ایک تفصیلی مضمون میں لیونگ کے کام کرنے کے انداز پر تنقید کی۔ انہوں نے لکھا کہ آج کل کچھ صحافی خود ہی خبر بننا چاہتے ہیں اور ’15 سیکنڈ کے وائرل ویڈیو‘ تیار کرنا صحافت کا متبادل بنتا جا رہا ہے۔

انہوں نے لکھا، ’صحافی کہانی نہیں ہوتا۔‘ ماریہ نے یہ بھی کہا کہ مشترکہ پریس بیان اور پریس کانفرنس کو ایک جیسا قرار دینا گمراہ کن ہے، کیونکہ مشترکہ بیان ایک طے شدہ سفارتی طریقۂ کار ہوتا ہے جہاں رہنما عموماً اسٹیج چھوڑتے وقت سوال نہیں لیتے۔

لیکن تنقید کا دائرہ صرف پیشہ ورانہ اختلاف تک محدود نہیں رہا۔ کچھ ردعمل براہ راست ذاتی حملوں اور کردار کشی تک جا پہنچے۔

اسی دوران ماکھن لال چترویدی نیشنل  یونیورسٹی آف جرنلزم کے سابق وائس چانسلر اور انڈیا ٹوڈے کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر جگدیش اُپاسنے نے فیس بک پر ہیلی لیونگ کی نجی تصویریں، جن میں وہ بکنی میں ملبوس نظر آ رہی تھیں، شیئر کرتے ہوئے انہیں ’نام نہاد صحافی‘ کہا۔

اس کے بعد صحافی راکیش پاٹھک نے ان کے نام ایک کھلا خط لکھتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم سے سوال پوچھنا ایسا جرم ہے، جس کے لیے کسی خاتون صحافی کی نجی زندگی اور لباس کو نشانہ بنایا جائے۔

خط میں انہوں نے لکھا، ’کیا آپ ایک عورت کو اپنی مرضی کے لباس پہننے کا حق نہیں دیں گے؟ اختلاف رائے کا حق آپ کو حاصل ہے، لیکن کسی خاتون کی کردار کشی کرنا نامناسب ہے۔‘

سینئر صحافی اجیت انجم نے بھی اُپاسنے کی پوسٹ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’جگدیش اُپاسنے نام کا یہ آدمی انڈیا ٹوڈے جیسی میگزین کا ایڈیٹر رہ چکا ہے اور بی جے پی راج میں آر ایس ایس کا منظور نظر ماکھن لال یونیورسٹی آف جرنلزم کا وائس چانسلر بھی بنا۔ کٹرسنگھی اور انتہائی نفرت پھیلانے والا شخص ہے۔ بیٹی کی عمر کی لڑکی کے بارے میں کتنی گھٹیا پوسٹ کر رہا ہے۔ آپ اپنی بھکتی کے زور پر بہت کچھ حاصل کر چکے، اب تو شرم کرو۔ ناروے کی اس لڑکی رپورٹر کے پیچھے اس حد تک پڑ گئے ہو کیونکہ اس نے مودی جی سے ایک سوال پوچھ لیا؟ اگر بڑھاپے میں اتنی پستی ہے تو پہلے کتنے رہے ہو گے؟‘

دوسری جانب کئی صحافیوں اور عوامی شخصیات نے ہیلی لیونگ کی حمایت میں بھی آواز اٹھائی۔

فرنٹ لائن کی مدیر ویشنا رائے نے لکھا، ’ہیلی لیونگ کو جس طرح ٹرول کیا جا رہا ہے، وہی ہندوستان میں آزادی صحافت کے سوال کا سب سے بڑا جواب ہے۔‘

ترنمول کانگریس کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے لکھا کہ حکومت کے حامی ٹرول اب ان کی ذاتی معلومات بھی آن لائن شیئر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’مودی جی نے ہندوستان کو اس حالت تک پہنچا دیا ہے۔‘

فیکٹ چیکر محمد زبیر نے بھی الزام لگایا کہ دائیں بازو کے ٹرولز لیونگ کا فون نمبر اور گھر کا پتہ آن لائن شیئر کر رہے ہیں۔

خود ہیلی لیونگ نے بھی بڑھتے ہوئے ردعمل کے درمیان سوشل میڈیا پر لکھا، ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے یہ لکھنا پڑے گا، لیکن میں کسی غیر ملکی حکومت کی جاسوس نہیں ہوں۔ میں صرف ایک صحافی ہوں۔‘

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال پوچھنے والی کسی غیر ملکی صحافی کو اس طرح کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 2023 میں وال اسٹریٹ جرنل کی صحافی سبرینا صدیقی نے واشنگٹن میں مودی سے اقلیتوں اور آزادی اظہار پر سوال کیا تھا، جس کے بعد انہیں بھی سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس بار بھی بحث صرف اس بات پر نہیں ہے کہ ہیلی لیونگ کا سوال مناسب تھا یا نہیں۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا کسی صحافی کے سوال کا جواب بحث اور حقائق سے دیا جائے گا، یا پھر اس کی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی کو نشانہ بنا کر اس کی ساکھ پر حملہ کیا جائے گا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...