
علامتی تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی: ایک وائرل ویڈیو کے حوالے سے منگل (19 مئی) کو ہنگامہ برپا ہو گیا، جس میں ہندو یوا واہنی کے غازی آباد یونٹ کے سابق سربراہ سشیل پرجاپتی کو ریپ کےمعاملے میں آٹھ ماہ جیل میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہائی کے بعد اس کے حامیوں کی جانب سے ہیرو کی طرح استقبال کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ پرجاپتی پر ایک لا کی طالبہ کے ساتھ ریپ کرنے کا الزام ہے۔
خبروں کے مطابق، رہائی کے فوراً بعد ملزم، جو سفید کپڑوں میں ملبوس تھا اور گیندے کے پھولوں کے ہاروں سے ڈھکا ہوا تھا، نے ایک روڈ شو کیا جس سے عوام میں غم وغصہ پھیل گیا۔ سامنے آئے ویڈیو میں اس کے حامی اسے کندھوں پر اٹھائے نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکالتے نظر آئے، جبکہ اردگرد لوگ ہاتھ ہلا رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔
यूपी : गाजियाबाद में LLB छात्रा से रेप के आरोपी हिंदू युवा वाहिनी नेता सुशील प्रजापति की जेल से रिहाई, समर्थकों ने कंधे पर बैठाया, जुलूस निकाला !! https://t.co/dAW6n949WF pic.twitter.com/YPA6z8q1k4
— Sachin Gupta (@Sachingupta) May 18, 2026
ملزم کے اردگرد موجود افراد کو’وی‘سے وکٹریعنی فتح کا نشان دکھاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا تھا، جبکہ کچھ لوگ اپنے موبائل فون ہوا میں لہرا کر اس منظر کو ریکارڈ کر رہے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ ہندو یوا واہنی کے سابق عہدیدار سشیل پرجاپتی پر غازی آباد میں ایک ایل ایل بی طالبہ کے ساتھ ریپ کرنے کا الزام تھا۔ اسے آٹھ ماہ بعد ضمانت ملی۔ یہ ویڈیو 17 مئی کا بتایا جا رہا ہے، جب ملزم کو ڈاسنہ جیل سے رہا کیا گیا تھا۔
الزام ہے کہ اس نے طالبہ کو ایک وکیل سے ملوانے کے بہانے ایک فلیٹ میں لے جا کر اس کے ساتھ ریپ کیا۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، طالبہ نے اپنی شکایت میں پولیس کو بتایا کہ اس کی ملاقات 2021 میں پرجاپتی سے ہوئی تھی۔ اس نے اسے غازی آباد کورٹ میں وکالت شروع کرنے کا مشورہ دیا تھا اور مالی مدد اور مقدمات میں تعاون کا وعدہ کیا تھا۔
شکایت کے مطابق، اس کے بعد میں ملزم اسے اپنی گاڑی میں غازی آباد کے ایک فلیٹ میں لے گیا اور جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہاں سینئر وکیل آئیں گے۔ فلیٹ میں اس نے طالبہ کو ایک سافٹ ڈرنک دی، جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئی۔
طالبہ کا الزام ہے کہ بے ہوشی کی حالت میں ملزم نے اس کے ساتھ عصمت دری کی۔ ہوش آنے پر اس نے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے واقعے کی شکایت کی تو اسے جان سے مروا دے گا، اور پھر اسے سڑک پر چھوڑ کرچلا گیا۔
شکایت کی بنیاد پر 8 اگست 2025 کو مراد نگر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے بعد ملزم نے ابتدا میں خودسپردگی سے انکار کیا، جس پر پولیس نے اس پر 25,000 روپے کا انعام مقرر کیا۔ بعد میں اسے 11 اگست 2025 کو گرفتار کر کے پولیس حراست میں بھیج دیا گیا۔ تقریباً نو ماہ جیل میں رہنے کے بعد اسے 17 مئی 2026 کو رہا کیا گیا۔
اپوزیشن نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا
اس دوران سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ ایک ملزم کا اس طرح استقبال کرنے والے ویڈیو سے زیادہ قابل مذمت کچھ نہیں ہو سکتا۔
یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’جس اپنی واہنی کی بھرپور تعریف ریاست کے وزیر اعلیٰ جی نے ابھی حال ہی میں کی تھی، اسی واہنی کے ’ریپ کے ملزم‘ایک بڑے عہدیدار کی ضمانت ہونے پر، جس طرح اس کا پھولوں کی بارش اور ہار پہنا کر استقبال کیا گیا ہے، اس سے زیادہ قابل مذمت اور کچھ نہیں ہو سکتا۔‘
انہوں نے مزید کہا،’ لگتا ہے معزز اگلا انتخاب آزادانہ طور پر لڑنے کے لیے اپنے پکے حامیوں کو باہر نکال رہے ہیں۔ اب کل کو ضمانت پر رہا یہ ریپ کا ملزم’خواتین کے ریزرویشن‘کے حق میں نعرے لگاتا نظر آئے گا۔ یہی ’ادھرمی بھاجپا‘اور اس کی ذیلی تنظیموں، واہنی اور پریشد کا اصلی چہرہ ہے۔‘
وہیں، کانگریس نے الزام لگایا کہ ایسے واقعات انتہاپسندطاقتوں کے وسیع ایجنڈے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ہندو سماج کو پرتشدد بنانا ہے۔
کانگریس کے قومی سکریٹری شاہنواز عالم نے کہا،’ایک ملزم کا ہیرو کی طرح استقبال کرنا نہ صرف ایک مہذب معاشرے کے لیے شرمناک ہے بلکہ یہ ایک خطرناک رجحان بھی ہے جس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ یہ شدت پسند ہندوتوا عناصر کی ایک وسیع منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ہندو سماج کو ایک پرتشدد ہجوم میں تبدیل کرنا ہے۔ آزاد ہندوستان میں پہلی بار ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسے سماج دشمن عناصر کھلے عام جشن منا رہے ہیں، جو حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔‘
صوبے میں ریپ کے واقعات
معلوم ہو کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں اتر پردیش میں خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق سب سے زیادہ 66,381 مقدمات درج کیے گئے تھے۔
حال ہی میں اتر پردیش کے مہوبا میں نیٹ کی تیاری کرنے والی ایک طالبہ کو مبینہ طور پر اغوا کرکے 16 دن تک قید رکھا گیا اور پولیس کی جانب سے بچائے جانے سے پہلے اس کے ساتھ شدید مارپیٹ اور جنسی زیادتی کی گئی۔
اپنی روزانہ کی کوچنگ کلاس سے واپس آتے وقت موہت شریواستو، انکت شریواستو اور الو راجپوت کی قیادت میں کچھ لوگ ایک کارمیں آئے اور مبینہ طور پر اسے اغوا کر لیا۔ گاڑی کے اندر اس گروہ نے اسے نشہ آور انجکشن دیے، اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اس کی فحش تصاویراتاریں اور ویڈیو بھی بنائے۔
گزشتہ 18 مئی کو اتر پردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ میں تین نوجوانوں نے مبینہ طور پر 17 سالہ ایک دلت لڑکی کو اغوا کرکے اس کے ساتھ گینگ ریپ کیا۔
گزشتہ15 اپریل کو غازی پور ضلع کے کرنڈا علاقے میں ایک دلت لڑکی کی لاش ملی تھی، جس کے خاندان نے جنسی تشدد اور قتل کا الزام لگایا تھا۔
گزشتہ 15 مئی کو میرٹھ میں بی اے کی ایک طالبہ کو اغوا کرکےریپ کے بعد قتل کر دیا گیا۔





