طرز حرب بدلنے والی ٹکنالوجیز

AhmadJunaidJ&K News urduMay 20, 2026359 Views


یہ نمائش محض ہتھیاروں کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ یہ ترکیہ کے اندر ابھرنے والے ایک نئے جیو پولیٹیکل تخیل کی عکاس تھی۔ ایک ایسا ملک جو نیٹو کے حاشیے پر کھڑے ایک دفاعی درآمد کنندہ سے ارتقا پا کر ایک ایسی تکنیکی عسکری قوت بن رہا ہے جو اب یورپ سے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے افریقہ تک کے سکیورٹی توازن پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خودکار جنگی ڈرون۔

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور نمائش گاہ کی طرف پیدل ہی چل پڑے۔

عسکری قافلے سکیورٹی کی متعدد تہوں اور رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہے تھے، جبکہ فضا میں ہیلی کاپٹر مسلسل چکر کاٹ رہے تھے۔یہ سبھی ترکیہ کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی دفاعی اور فضائی نمائش ساہا2026 ،کی طرف رواں تھے۔

ابھی دوپہر بھی نہیں ہوئی تھی کہ نمائش کے وسیع و عریض ہال افریقی ممالک کے تمغہ پوش جنرلوں، خلیجی شہزادوں، نیٹو کے اعلیٰ افسران اور ایشیائی ممالک کے خریداری وفود سے بھر چکے تھے۔

ان کے ساتھ ساتھ ترکیہ کے مشہورِ زمانہ دفاعی ادارے ’بایکار‘کی سیاہ جیکٹیں پہنے انجینئر، خفیہ بریفنگ فولڈرز اٹھائے سفارت کار اور عربی، ترکی، انگریزی، روسی اور فرانسیسی زبانوں میں گفتگو کرتے کاروباری حضرات ایک منفرد عالمی منظر پیش کر رہے تھے۔

ہال نمبر 8 کے اندر، شرکاء کا ہجوم ایک ایسی چیز کے گرد جمع تھا جو آنے والے کئی دنوں تک عالمی دفاعی مباحثوں کا محور بننے والی تھی۔ یہ ترکیہ کے پہلے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) یلدرم خان کی رونمائی کی تقریب تھی۔

ترک حکام کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ میزائل 6,000 کلومیٹر سے زائد کے فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ ہائپرسونک رفتار یعنی آواز کی رفتار سے تقریباً 25 گنا زیادہ کی رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے ترکیہ کے دفاعی عروج کو ڈرونز، خودکش گولہ بارود یعنی میونیشنز لوئیٹرنگ سے منسوب کیا جاتا رہا ہے جن کی کامیابی کی دھاک لیبیا، شام، ناگورنو کاراباخ اور یوکرین کے معرکوں میں بیٹھ چکی ہے۔ لیکن ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی نمائش کسی بہت بڑی جست کی علامت تھی۔ یہ طویل فاصلے تک اسٹریٹجک ڈیٹرنس یعنی دفاعی توازن کے اس مخصوص اور خصوصی حلقے میں داخل ہونے کی ایک شعوری کوشش تھی جو تاریخی طور پر صرف دنیا کی چند بڑی عسکری طاقتوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا رہا ہے۔

نمائش کے اندر کا ماحول یہ واضح کر رہا تھا کہ یہ کوئی عام اسلحہ میلہ نہیں تھا۔ جولائی میں انقرہ میں منعقد ہونے والے نیٹو کے انتہائی اہم سربراہی اجلاس سے محض چند ماوہ قبل یہ ایک ایسا اسٹیج ترتیب دیا گیا تھا، جہاں ترکیہ اپنے آپ کو محض نیٹو کے ایک اور رکن کے طور پر نہیں، بلکہ ایک غیر مستحکم عالمی نظام کے اہم ترین اور کلیدی حفاظتی ستون کے طور پر پیش کر رہا تھا۔

پہلا دن

پچھلے سال ہوئی ہندوستان-پاکستان جنگ، روس اور یوکرین جنگ ، اور حال ہی میں ہوئے امریکہ-ایران تصادم کی چھاپ اس نمائش پر گہری دکھائی دے رہی تھی۔

مختلف اسٹالوں پر موجود دفاعی انجینئروں سے گفتگو کرتے ہوئے پتہ چلا کہ ان تصادموں نے سرد جنگ کے بعد کے عسکری نظریات کے اس مرکزی مفروضے کو چکنا چور کر دیا ہے کہ غیر معمولی روایتی فوجی برتری ہی ہمیشہ حتمی اور فیصلہ کن فتح کی ضمانت ہوتی ہے۔

ان کے مطابق حالیہ جنگوں نے ثابت کیا ہے کہ اب سستے ڈرونز اربوں ڈالر مالیت کے بکتر بند دستوں کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ الیکٹرانک وارفیئر، برقیاتی حرب ایک بڑی اور جدید ترین افواج کو اندھا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

خودکار حملہ آور نظام انتہائی جدید فضائی دفاعی باڑوں کو تہس نہس کر سکتے ہیں۔ سمندری راستوں پر موجود تزویراتی رکاوٹیں کسی بھی ملک کی بحری برتری کو بے اثر کر سکتی ہیں۔ مزید برآں، طویل جنگیں طاقتور معیشتوں کو بھی سیاسی اور نفسیاتی طور پر کھوکھلا کر دیتی ہیں۔یہ وہ سبق تھا جو نمائش گاہ کے در و دیوار میں پوری شدت کے ساتھ گونج رہا تھا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع یاشار گولر نے ترکیہ کی عسکری توسیع کو براہِ راست یوکرین اور ایران کے تنازعات سے جنم لینے والے تیزی سے بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول سے جوڑا۔

انہوں نے استدلال کیا کہ اب وہ دور لد گیا جب ممالک صرف روایتی فوجی سوچ پر بھروسہ کر سکتے تھے۔ یہ ایسا عہد ہے جہاں ڈرون وارفیئر، الکٹرانک حملے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیزی سے میدانِ جنگ کے نتائج کا فیصلہ کر رہے ہیں۔

نمائش کے تعارفی مواد میں بتایا گیا کہ یوکرین کی جنگ نے دکھا دیا کہ کس طرح معمولی قیمت کے ڈرونز لاکھوں ڈالر مالیت کے ٹینکوں، توپ خانے کے نظام اور بحری اثاثوں کو نیست و نابود کر سکتے ہیں۔

ترک اسٹریٹجک ماہرین کے مطابق، ایران پر مسلط کردہ حالیہ امریکہ-اسرائیل تصادم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے دفاعی نظاموں اور سمندری خودمختاری کی تزویراتی اہمیت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔

جنوبی ایشیا کے مبصرین کے لیے یہ ریمارکس خاصی اہمیت کے حامل تھے۔ 2025 کے پاک-ہندوستان تصادم نے بھی اسی طرح واضح کیا کہ جدید جنگیں کس تیزی سے فوجی برتری کے روایتی حساب کتاب سے آگے نکل سکتی ہیں۔

درست نشانے والے ڈرونز، الکٹرانک وارفیئرنے جنگ کی شدت اور پھیلاؤ کی حرکیات کو پیچیدہ بنا دیا ہے جس کا روایتی عسکری نظریات میں مکمل ادراک موجود نہ تھا۔

ان جنگوں کا مطالعہ کرنے والے ترک ماہرینِ حرب اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ مستقبل کے تنازعات بیسویں صدی کی صنعتی جنگوں جیسے نہیں ہوں گے۔ اس کے بجائے، وہ ایک ایسے غیر مرکزی میدانِ جنگ کو دیکھ رہے ہیں جو خودکار نظاموں، الکٹرانک خلل،سوارم ٹیکنالوجیز ،ڈرونز کے جھنڈ اور کم لاگت مگر درست ترین حملوں سے عبارت ہوگا۔

اس اہم نمائش میں ترکیہ نے خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جو اس بڑی تبدیلی کے لیے بھرپور اور جارحانہ انداز میں تیاری کر رہا ہے۔ نمائش کی وسعت بذاتِ خود ان عزائم کی عکاس تھی۔

اس ایونٹ میں 120 سے زائد ممالک کی 1,760 سے زیادہ کمپنیوں نے شرکت کی، جن میں تقریباً 1,500 ترک ادارے اور 263 غیر ملکی کمپنیاں شامل تھیں۔

چھ روز میں ترکیہ کی دفاعی اور خلائی صنعت سے وابستہ کمپنیوں نے تقریباً 182 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے، جس سے قریب 8 ارب ڈالر کا کاروباری حجم پیدا ہوا، جس میں سے تقریباً 6 ارب ڈالر براہِ راست برآمدات سے منسلک تھے۔

اس میلے کے دوران معاہدوں پر دستخط کی 164 تقریبات منعقد ہوئیں۔اس کے علاوہ ایرو اسپیس، بحری جنگ، خودکار نظاموں، سائبر ٹیکنالوجیز اور الکٹرانک وارفیئر کے شعبوں میں 203 سے زیادہ نئی مصنوعات منظرِ عام پر لائی گئیں۔

تاہم،اس دفاعی میلہ کی اصل اہمیت محض اعداد و شمار میں نہیں بلکہ اس انتخاب میں پوشیدہ تھی کہ ترکیہ نے دنیا کے سامنے کن چیزوں کو پیش کیا۔

نمائش کے فرش پر پھیلی مصنوعات ایک ایسے ملک کی تصویر پیش کر رہی تھیں جسے اب پختہ یقین ہو چکا ہے کہ اکیسویں صدی میں عسکری طاقت محض ان ریاستوں کے پاس نہیں ہوگی جن کی فوجیں بڑی ہیں، بلکہ ان کے پاس ہوگی جو ان ٹیکنالوجیز کو تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو مستقبل کے میدانِ جنگ کی سمت متعین کریں گی۔

یہ تبدیلی ترکیہ کی مشہورِ زمانہ ڈرون کمپنی ’بایکار‘کے اسٹینڈ پر سب سے زیادہ نمایاں تھی، جس کے بنائے ہوئے نظام دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ کمپنی کے پرہجوم اسٹینڈ پر زائرین نے ،حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والے ’مزراق‘،لوئیٹرنگ میونیشن خودکش ڈرون، کے 2کامیکازے یو اے وی اور سِوری سِنیک ٹیکٹیکل ڈرون کا مشاہدہ کیا۔

بایکار کے حکام نے بارہا ان نظاموں کو مسقبل کی جنگوں کے لیے تیار کردہ ٹیکنالوجی قرار دیا۔ان ڈرونز کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کے جام و ناکارہ ہونے پر بھی کام کرسکتے ہیں۔

اسی طرح بایکار کے انجینئرز کے مطابق، مصنوعی ذہانت سے لیس مرزاق خودکش ڈرون 1,000 کلومیٹر سے زائد کی رینج رکھتا ہے اور 40 کلوگرام سے زائد بارودی مواد لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

اس کی سب سے بڑی خوبی جی پی ایس ے بغیر آزادانہ طور پر ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت ہے، جس نے ان غیر ملکی وفود کی خاصی دلچسپی پیدا کی جو یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں الکٹرانک وارفیئر کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوریوں سے پریشان تھے۔

جنوبی مشرقی ایشیا اور خلیجی ممالک کے وفود کو ڈرون سوارم یعنی جھنڈکوآرڈینیشن سافٹ ویئر کا مظاہرہ دکھاتے ہوئے ایک ترک انجینئر نے وضاحت کی کہ مستقبل کا میدانِ جنگ ان خودکار نظاموں کا ہے جو مواصلاتی نظام کی مکمل معطلی کے باوجود بچ نکلنے اور اپنا مشن پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

اگرچہ ڈرون وارفیئر کے ارتقاء کا موضوع ہر گفتگو پر چھایا رہا، لیکن ایسا لگا کہ ترکیہ کے عزائم اب فضائی نظاموں سے کہیں آگے تک پھیل چکے ہیں۔

اس نمائش سے ابھرنے والا ایک اہم ترین موضوع زیرِ آب قلمرو کی عسکری قوت میں تبدیلی تھا۔ ترکیہ کے دفاعی ادارے ’ایسلسان‘نے ’قلیچ ‘(کیلی-سی7)کے نام سے ترکیہ کی پہلی خودکار زیرِ آب کامیکازے گاڑی متعارف کرائی۔

اس کے ساتھ ہی طوفان نامی بغیر ملاح کے سطحِ آب پر چلنے والے بحری جہاز کی نمائش کی گئی، جسے بحری سوارم حملوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ان نظاموں کو ترکیہ کی پھیلتی ہوئی ’بلیو ہوم لینڈ‘یعنی’ ماوی وطن‘کے ڈاکٹرائن کے طور پر پیش کیا گیا، جو بحیرہ روم، بحیرہ اسود اور قریبی آبی گزرگاہوں پر اپنی بحری طاقت کے اظہار اور دو سو کلومیٹر کی حدود تک خصوصی اقتصادی زون پر اپنے دعوے پر زور دیتی ہے۔

ماہرین اس خودکار بحری جنگ کی تزویراتی اہمیت کوایران سے متصل آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہوں میں حالیہ تناؤ سے جوڑ کر دیکھ رہے تھے۔

یہ نظریہ ہندوستان کے لیے بھی بلاواسطہ مضمرات کا حامل ہے، جس کی بنیادی وجہ مجوزہ’انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور‘(آئی ایم ای سی)ہے۔ ترک تزویراتی ماہرین کا استدلال ہے کہ یہ راہداری،’ماوی وطن کے طور پر ترکیہ کے سمنددری حدود سے گزرنے کے باوجود، دانستہ طور پر اس کو کو نظرانداز کرتی ہے۔

اس سمندری رہگزر میں ہندوستان- متحدہ امارات، سعودی عرب، اردن، اسرائیل اور یونان شامل ہیں۔ چنانچہ، ترک تجزیہ کار اس تجارتی راستے کی طویل المدتی افادیت اور سیکورٹی پر سوال اٹھا رہے ہیں جو ایک طرف تو ترکیہ کو پسِ پشت ڈالتا ہے، مگر دوسری طرف اُنہی سمندری حدود سے گزرتا ہے جہاں ترک بحریہ ایک جارحانہ، مستحکم اور تکنیکی لحاظ سے انتہائی جدید ترین موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

ترک دفاعی کمپنی ایس ٹی ایم کے جنرل منیجر اوزگور گلیریز

ترک دفاعی کمپنی ایس ٹی ایم کے جنرل منیجر اوزگور گلیریز مجھے بتا رہے تھے کہ بڑے پیمانے پر ہونے والے ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے روایتی میزائل ڈیفنس سسٹم اکثر بہت مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔اس لیے لیزر پر مبنی ایک پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے، جس کو اسٹیل ڈوم کا نام دیا گیا ہے۔ جسے روایتی میزائل انٹرسیپٹرز کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت پر ڈرون جھنڈوں کو بے اثر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

عسکری تجزیہ کاروں نے بارہا یاد دلایا کہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات نے یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ ڈرونز کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں مہنگے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کس تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں لیزر سسٹمز ممکنہ طور پر ایک بہت ہی سستا متبادل فراہم کرتے ہیں۔

تاہم، جو چیز اس نمائش کو مغربی دفاعی نمائشوں سے ممتاز کرتی تھی، وہ اس کے گرد بنا گیا وسیع تر سیاسی بیانیہ تھا۔ ترک حکام کے لیے دفاعی شعبے میں مقامی سطح پر خودکفالت اب محض ایک ضرورت نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا لازم و ملزوم حصہ بن چکی ہے۔

تین دہائیاں قبل، ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات کا تقریباً 80 فیصد حصہ یورپ اور امریکہ سے درآمد کرتا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ لگنے والی پابندیوں، خریداری کے تنازعات اور سیاسی رکاوٹوں نے آخر کار انقرہ کو اس بات پر قائل کر لیا کہ دوسروں پر انحصار اسٹریٹجک خطرات کا حامل ہے۔

تب سے اب تک آنے والی تبدیلی غیر معمولی ہے۔ ترک حکام کے مطابق، اب ملکی صنعتیں ملک کی دفاعی ضروریات کا 80 فیصد سے زائد حصہ خود پورا کر رہی ہیں۔ صدر رجب طیب ایردوان نے دفاعی صنعت کو ایک ایسے’ایکو سسٹم‘ سے تشبیہ دی جس کی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی مانگ ہے اور جس پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا؛

’ہمیں لاتعداد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں (مغرب ) نے پابندیوں کے ذریعے ہمارا راستہ روکنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ ہمیں اندرونی غداریوں اور سازشوں کا نشانہ بھی بنایا گیا۔‘

دو دہائی قبل جو یورپ ترکیہ کو آلات حرب و ضرب دینے پر پابندی لگا رہا تھا، اب خود دفاعی ٹکنالوجی کے لیے ترکیہ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ جرمنی اسپین، ہنگری، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک کے ماہرین مختلف دفاعی مصنوعات کی خریداری پر گفت و شنید کر رہے تھے۔

ترک کمپنیاں اب یورپ کو ایک’سپلائر مارکیٹ‘کے بدلے اپنی برآمدات کی منزل اور ایک ممکنہ سیکیورٹی پارٹنر کے طور پر دیکھتی ہیں۔جرمن وزیر دفاع نے بتایا کہ ا ن کا ملک امریکی ٹام ہاک میزائل کے متبادل کے بطور ترکیہ کے یلدرم خان میزائل خریدنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

سرد جنگ کے بعد کئی دہائیوں تک، بہت سے یورپی ممالک نے اس مفروضے پر دفاعی اخراجات میں مسلسل کمی کی کہ امریکی فوجی تحفظ مستقل اور غیر متزلزل رہے گا۔

نمائش میں شریک نیٹو کے کئی تجزیہ کاروں نے نجی محفلوں میں اس بات کا اعتراف کیا کہ یورپ کا دفاعی و صنعتی ڈھانچہ اب بھی لاجسٹک، انٹلی جنس اور اسٹریٹجک نظاموں کے لیے بڑے پیمانے پر امریکہ کا محتاج ہے ۔

ترکیہ نے اس کے برعکس ایک بالکل مختلف راستہ اختیار کیا۔ سرد جنگ کے بعد فوجی سرمایہ کاری کم کرنے کے بجائے، انقرہ نے دفاعی تحقیق اور ترقی (آر اینڈ ڈی) کے اخراجات میں مستقل اضافہ کیا۔

آج، ترک کمپنیاں 185 ممالک کو 230 سے زائد اقسام کے دفاعی نظام برآمد کر رہی ہیں۔ سال بہ سال 48 فیصد اضافے کے بعد 2025 میں دفاعی برآمدات 10 ارب ڈالر کے ہندسے کو عبور کر گئیں۔

This slideshow requires JavaScript.

بتایا گیا کہ یورپ کے دس ایسے ممالک ہیں، جن کے پاس کوئی ٹینک ہی نہیں ہے۔ برطانیہ جو ایک وقت ایک بڑی بحری طاقت ہوتا تھا، کے پاس اب جنگ کے قابل سمندری جہاز ہی نہیں ہیں۔ اس لئے امریکہ کے انخلاء کے بعد یورپ سیکورٹی کے لیے ترکیہ کی طرف دیکھ رہا ہے۔

عالمی نمائش کے دوران ترکیہ نے پاکستان کے ساتھ بھی خاموشی سے اپنے مذاکرات کا دائرہ وسیع کیا۔ اگرچہ سا ہاکے اسٹیج سے عوامی سطح پر پاکستان کے لیے کسی بڑے دفاعی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ترک اور پاکستانی دفاعی حکام کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں۔

نمائش کے دوران غیر رسمی طور پر لڑاکا طیاروں میں تعاون، بحری نظاموں، یو اے وی ٹیکنالوجیز اور ایوی اونکس کے شعبوں میں جاری متعدد منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ہندوستان کے لیے ان پیش رفتوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔مسلم اکثریتی ممالک میں انقرہ کا پھیلتا ہوا اثر و رسوخ، اس کو وسیع تر ایشیائی سکیورٹی حرکیات میں ایک کلیدی اسٹریٹجک کھلاڑی کے طور پر کھڑا کر رہا ہے۔’ساہا 2026’ نے اس بدلاؤ کو پوری شدت سے محسوس کیا۔

جب مندوبین رات گئے نمائش کے ہالوں سے رخصت ہو رہے تھے، تو بڑی اسکرینوں پر خودکار ڈرون جھنڈوں، زیرِ آب حملے کے نظاموں اور ہائپرسونک میزائلوں کے سمیولیشنز کی فوٹیج مسلسل چل رہی تھی۔

انقرہ نے استنبول سے جو پیغام دیا، وہ بالکل واضح تھا۔ مستقبل کا میدانِ جنگ شاید اب خود بخود امیر ترین طاقتوں یا بڑی فوجوں کی جاگیر نہیں رہے گا۔ یہ ان ممالک کا ہو سکتا ہے جو مستقبل کی جنگوں کے مطابق خود کو تیزی سے ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حالیہ جنگوں نے کئی درمیانی درجے کی طاقتوں کو قائل کر دیا ہے کہ پابندیوں، تکنیکی حربوں اور غیر مستحکم اتحادوں پر مبنی اس بکھرے ہوئے عالمی نظام میں اب صرف روایتی اتحاد سیکیورٹی کی کافی ضمانت فراہم نہیں کر سکتے۔

یہ نمائش محض ہتھیاروں کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ یہ ترکیہ کے اندر ابھرنے والے ایک نئے جیو پولیٹیکل تخیل کی عکاس تھی۔ ایک ایسا ملک جو نیٹو کے حاشیے پر کھڑے ایک دفاعی درآمد کنندہ سے ارتقاء پا کر ایک ایسی تکنیکی عسکری قوت بن رہا ہے جو اب یورپ سے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے افریقہ تک کے سکیورٹی توازن پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

’یلدرم خان‘ جیسے شاہکار اور ’بلیو ہوم لینڈ‘جیسے نظریات یہ ثابت کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں ترکیہ عالمی بساط پر ایک خاموش تماشائی نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن کھلاڑی بن کر ابھرے گا۔

دنیا اب بدل رہی ہے، اور اس نئی دنیا میں دفاع کا مطلب اب صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی وہ بالادستی ہے جو دشمن کے ارادوں کو میدانِ جنگ میں اترنے سے پہلے ہی مغلوب کر دے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...