
اوسلو میں سوموار، 18 مئی 2026 کو ناروے کے وزیراعظم یوناس گہر اسٹورے کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس پروگرام کے دوران ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی۔ (تصویر: اے پی/پی ٹی آئی)
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کا پریس کے حوالے سے رویہ ایک بار پھر سوموار (18 مئی) کو ان کے یورپ دورے کے دوران سرخیوں میں آ گیا، جب ایک نارویجین صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ میڈیا کے سوالوں کے جواب دیں گے، لیکن مودی بغیر کوئی جواب دیے وہاں سے چلے گئے۔
اوسلو میں مودی اور ان کے نارویجین ہم منصب یوناس گہر اسٹورے کے مشترکہ پریس کانفرنس کے اختتام پر’دگس اوویسن‘اخبار کی کالم نگار ہیلی لیونگ نے پوچھا؛
’وزیراعظم مودی، آپ دنیا کے سب سے آزاد پریس کے سوال کیوں نہیں لیتے؟‘
مودی، جنہوں نے اپنے خطاب میں ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیا تھا، یہ سوال سنتے ہی اسٹورے کے ساتھ وہاں سے چلے گئے۔
دی ہندو کی سہاسنی حیدر کے مطابق، بعد میں اسٹورے میڈیا سے بات چیت کے لیے واپس آئے تھے۔
Primeminister of India, Narendra Modi, would not take my question, I was not expecting him to.
Norway has the number one spot on the World Press Freedom Index, India is at 157th, competing with Palestine, Emirates & Cuba.
It is our job to question the powers we cooperate… pic.twitter.com/vZHYZnAvev
— Helle Lyng (@HelleLyngSvends) May 18, 2026
ہیلی لیونگ نے کہا کہ انہیں یہ امید نہیں تھی کہ مودی ان کا سوال سنیں گے۔ وزیراعظم کے طور پر اپنے ایک دہائی سے زیادہ کے دور حکومت میں مودی نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوال صرف دو بار لیے ہیں، اور دونوں مواقع بیرون ملک میں تھے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا،’جن طاقتوں کے ساتھ ہم تعاون کرتے ہیں، ان سے سوال پوچھنا ہمارا کام ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے گلوبل پریس فریڈم انڈیکس میں ناروے پہلے نمبر پر ہے، وہیں ہندوستان 180 ممالک میں 157ویں نمبر پر ہے۔
Tried to ask PM Modi a question on the way to the elevator to, but the closing doors stopped me.
What I was wondering was whether he thinks he deserves the trust of the Nordic countries given his human rights violations and his restrictions on press freedom. pic.twitter.com/W2HFFNcCKh
— Helle Lyng (@HelleLyngSvends) May 18, 2026
انہوں نے یہ بھی لکھا کہ جب مودی لفٹ میں داخل ہو رہے تھے تو انہوں نے ان سے سوال کرنے کی کوشش کی، لیکن سوال مکمل ہونے سے پہلے ہی لفٹ کے دروازے بند ہو گئے۔
ہندوستانی وزیراعظم تک پہنچنے کی کوشش کی ایک ویڈیو کے ساتھ لیونگ نے لکھا؛
’میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا انہیں لگتا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پریس کی آزادی پر پابندیوں کو دیکھتے ہوئے وہ نارڈک ممالک کے بھروسے کے لائق ہیں؟‘
اس کے بعد سوموار کی شام بعد میں اوسلو میں ہندوستانی سفارت خانے نے ایکس پر لیونگ کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقامی وقت کے مطابق رات 9:30 بجے مودی کے دورے سے متعلق پریس بریفنگ میں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی، جس سے اشارہ ملا کہ وہ پریس بریفنگ میں شامل ہونے کے لیے وہاں پہنچی تھیں۔
Press briefing tonight. pic.twitter.com/CFOynXP3pK
— Helle Lyng (@HelleLyngSvends) May 18, 2026
پریس بریفنگ کے دوران لیونگ نے وزارت خارجہ کے سکریٹری (ویسٹ) سیبی جارج سے درخواست کی کہ وہ پہلے ان کے سوال کا جواب دیں تاکہ وہ اس پر مزید سوال کر سکیں۔ تاہم جارج نے اس سے انکار کر دیا اور پہلے کسی دوسرے سوال کو لیا۔ بعد میں جب وہ لیونگ کی طرف آئے تو انہوں نے پوچھا؛
میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ جب ہم اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط کر رہے ہیں تو ہم آپ پر بھروسہ کیوں کریں؟ کیا آپ یہ یقین دہانی کر سکتے ہیں کہ آپ اپنے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کی کوشش کریں گے؟ اور کیا مستقبل میں کسی وقت وزیراعظم ہندوستانی پریس کے مشکل اور تنقیدی سوالوں کے جواب دینا شروع کریں گے؟
اس کے جواب میں جارج نے کووڈ بحران سے نمٹنے میں مودی حکومت کے کردار، ہندوستان کی جانب سے ویکسین اور ادویات کی برآمد، اور یوگا کی ابتدا ہندوستان میں ہونے جیسے نکات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان پر بھروسہ کیوں کیا جانا چاہیے۔
تاہم، جب لیونگ نے ان سے مزید سوال پوچھنے کی کوشش کی تو جارج نہیں رکے اور انہوں نے انہیں اپنا سوال مکمل کرنے کا موقع بھی نہیں دیا۔
بعد میں لیونگ نے ایکس پر لکھا؛
’میں اور میرے ساتھی نے آج رات دو طرح کے سوال پوچھے — پہلا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں ہندوستان پر بھروسہ کیوں کرنا چاہیے، اور دوسرا، دورے سے متعلق مسائل پر۔ میں نے کئی بار انسانی حقوق کے سوال پر ان سے واضح اور براہ راست جواب لینے کی کوشش کی، لیکن میں اس میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ نمائندوں نے ہندوستان کی کووڈ کے دوران کی گئی کوششوں، یوگا اور کچھ دیگر باتوں کا ذکر کیا۔ میرے ساتھی کے پاس اس کے ویڈیو ہیں، اس لیے میں انہیں کل شیئر کرنے کی کوشش کروں گی۔‘
اس کے بعد مبینہ طور پر حکومت کے حامیوں کی ٹرولنگ اور الزامات کے درمیان انہوں نے لکھا؛
’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے یہ لکھنا پڑے گا، لیکن میں کسی بھی طرح کی غیر ملکی جاسوس نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے کسی غیر ملکی حکومت نے بھیجا ہے۔ میرا کام صحافت ہے، اور اس وقت میں بنیادی طور پر ناروے میں کام کر رہی ہوں۔‘
بعد میں، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کی جانب سے کیے گئے حمایت والے ایک پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لیونگ نے ان سے ایک انٹرویو کی درخواست بھی کی۔
Hello, would you be available for a phone interview Tuesday Norwegian time. It would be interesting to hear how you view the visit to Norway.
— Helle Lyng (@HelleLyngSvends) May 18, 2026
قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے بھی اسی دورے میں مودی حکومت اور میڈیا کے تعلقات سرخیوں میں آئے تھے، جب ڈچ وزیراعظم روب ییتن نے ہندوستانی وزیراعظم کے ساتھ اپنے عشائیے سے قبل صحافیوں سے کہا تھا کہ ان کی حکومت اور دیگر یورپی ممالک کی حکومتوں کو مودی کے دور حکومت میں پریس کی آزادی، اقلیتوں کے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سےتشویش ہے۔
سنیچر کو بعد میں وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران جب ایک مقامی صحافی نے ییتن کے تبصرے پر سوال پوچھا تو سکریٹری (ویسٹ) سی بی جارج نے ایسے سوالوں کو ’سوال پوچھنے والے شخص کی کم فہمی‘کا نتیجہ قرار دیا۔
تاہم، جب ایک اور صحافی نے مزید سوال کرتے ہوئے کہا کہ سوال پوچھنے والا شخص دراصل خود ییتن کے بیان کا حوالہ دے رہا تھا، اور پوچھا کہ کیا جارج یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ڈچ وزیراعظم کو ہندوستان کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے، تو سفارت کار نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ییتن کا وہ بیان دیکھا ہی نہیں ہے۔
جارج نے کہا،’میں نے وہ بیان نہیں دیکھا ہے۔ میں اس سوال کی بات کر رہا ہوں جو اس موضوع پر اٹھایا گیا تھا، یعنی آزادی کے مسئلے پر۔ اور مجھے لگتا ہے کہ میں یہ واضح کر چکا ہوں کہ ہندوستان کتنا خوبصورت ملک ہے۔ شکریہ۔‘
غور طلب ہے کہ اس سے پہلے آخری بار جب مودی نے 2023 میں واشنگٹن میں اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کسی صحافی کے سوال کا جواب دیا تھا، تو ان سے ان کی حکومت کے دوران اقلیتوں کے حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔
یہ سوال وال اسٹریٹ جرنل کی صحافی سبرینا صدیقی نے کیا تھا۔ اس کے بعد انہیں ہندوتوا حامی رہنماؤں اور حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر سخت ٹرولنگ اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں






