تھلاپتی وجے: ریکارڈ کامیابی، ریکارڈ احکامات…سہیل انجم

AhmadJunaidJ&K News urduMay 17, 2026364 Views


تمل ناڈو کے نومنتخب وزیر اعلیٰ اور ٹی وی کے پارٹی کے صدر تھلاپتی جوزف وجے نے اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کر کے پورے ملک کو چونکا دیا تھا۔ انھوں نے حکومت بناتے ہی انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کے لیے انتہائی کم دنوں میں ریکارڈ احکامات جاری کر کے ایک بار پھر لوگوں کو چونکنے پر مجبور کر دیا۔ انھوں نے اپنے عہدے اور رازداری کا حلف لیتے ہی تقریب حلف برداری میں تین اہم احکامات جاری کر دیے۔ پہلا پانچ سو یونٹ سے کم بجلی خرچ کرنے والے خاندانوں کو دو سو یونٹ بجلی مفت۔ دوسرا ہر ضلعے میں منشیات پر قابو پانے کے لیے اسپیشل فورس کی تشکیل اور خواتین کے تحفظ کے لیے ’لائن وومن ٹاسک فورس‘ کا قیام۔ انھوں نے اپنے پہلے خطاب میں ریاست پر قرض کے بوجھ اور مالیاتی پوزیشن کے لیے سابقہ حکومت پر تنقید بھی کی۔

واضح رہے کہ ان کی پارٹی ریاستی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی۔ لیکن اس کو 234 رکنی اسمبلی میں اکثریت کے لیے درکار 118 سیٹوں سے کم یعنی 108 سیٹیں ہی ملیں۔ انتخابی نتائج برآمد ہونے کے بعد ہی کانگریس نے ان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ کانگریس کے پانچ امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ یعنی اب بھی پانچ سیٹوں کی کمی تھی۔ لیکن بہرحال وجے نے انتظام کر لیا۔ سی پی آئی، سی پی ایم اور دیگر پارٹیوں کی حمایت سے 120 ارکان ہو گئے۔ لیکن جب اکثریت ثابت کرنے کے لیے ایوان کا اجلاس منعقد ہوا تو ان کی حکومت کو 144 ووٹ ملے۔

جوزف وجے نے انتخابات کے دوران عوام سے متعدد وعدے کیے تھے۔ جن میں مذکورہ تین وعدوں کے علاوہ ہر خاندان کو چھ رسوئی گیس خریدنے کے لیے ان کے بینک اکاؤنٹ میں براہ راست رقم جمع کرنے، خواتین کے لیے پوری ریاست میں سرکاری بسوں میں مفت سفر کرنے، شادی میں دلہن کو آٹھ گرام سونا اور ریشم کی ساڑی دینے اور سرکاری اسپتال میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو سونے کی انگوٹھی اور ضروری اشیا کا باکس دینے کے وعدے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ وجے نے بے روزگار گریجویٹ کو ہر ماہ چار ہزار روپے بھتہ اور پانچ ایکڑ سے کم زمین والے کسانوں کے زرعی قرضوں کی معافی کا وعدہ بھی کیا تھا۔

انھوں نے حکومت میں آنے کے پہلے ہی دن سرکاری عہدے داروں کے ساتھ میٹنگ کی، ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال کا جائزہ لیا اور انتخابات کے دوران کیے گئے متعدد وعدوں کی تکمیل کے لیے کئی فائلوں پر دستخط کیے۔ خواتین کے تحفظ کے لیے بنائی جانے والی ٹاسک کا نام ’سنگا پین‘ ہے۔ یہ فورس براہ راست وزیر اعلیٰ کے ماتحت کام کرے گی۔ اس فورس کا کام فوری کارروائی کرنا، مستقل نگرانی اور ان علاقوں پر خصوصی نظر رکھنا جہاں خواتین کے خلاف جرائم کے امکانات زیادہ ہوں۔ اس فورس کا سربراہ آئی جی ہوگا اور ایس پی، ڈی ایس پی، انسپکٹر اور سب انسپکٹر جیسے اہل کار بھی اس میں ہوں گے۔ اس کے پاس جدید ترین نگرانی اور مواصلاتی آلات ہوں گے۔

حکومت نے ہر دو مہینے میں ایک بار دو سو یونٹ تک مفت بجلی کا وعدہ پورا کیا۔ اس کے تحت گھریلو صارفین کے علاوہ کسانوں کو بھی زراعت کے لیے مفت بجلی دی جائے گی۔ ہینڈلوم اور پاورلوم بنکروں کو بھی مفت بجلی ملے گی۔ حکومت نے تمام اضلاع اور سٹی کمشنریٹس میں 65 اینٹی نارکوٹک ٹاسک فورس (انسداد منشیات ٹاسک فورس) پولیس اسٹیشن بنانے کا حکم دیا ہے جو وزیر اعلیٰ کی براہ راست نگرانی میں کام کریں گے۔ ان میں سے 37 اسٹیشن فی ضلع ایک کے حساب سے قائم کیے جائیں گے۔ بقیہ 28 پولیس اضلاع نو سٹی کمشنریٹ کے اندر شامل ہوں گے جن میں چنئی کے 12 اور آوادی، تمبارم، سیلم، کوئمبٹور، تروپور، تروچی، مدورائی اور ترونیل ویلی میں دو دو شامل ہیں۔ ایسے ہر پولیس اسٹیشن پر ایک انسپکٹر، دو سب انسپکٹر اور پانچ کانسٹیبل تعینات ہوں گے۔ مجموعی طور پر، فورس میں 65 انسپکٹرز، 130 سب انسپکٹرز، اور 325 کانسٹیبل شامل ہوں گے۔

سرکاری بسوں میں خواتین کے مفت سفر کے تحت کاروباری خواتین ہوں یا گھریلو، تعلیم حاصل کرنے والی یا ٹرانس جینڈر ہوں سب فائدہ اٹھا سکیں گے۔ یہ سہولت صرف شہری عام بسوں میں ہوگی۔ اس کا اطلاق ڈیلکس، اے سی اور طویل مسافت والی بسوں پر نہیں ہوگا۔ اس کے لیے کوئی کارڈ بنوانے یا آئی ڈی پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حکومت ریاست کی مالی پوزیشن کے لیے ایک وائٹ پیپر جاری کرے گی۔ جس میں قرضوں کے بوجھ، مالیاتی خسارہ اور اقتصادی چیلنجز کے بارے میں تفصیلات ہوں گی۔ اس کا مقصد حکومتی کام کاج میں شفافیت لانا ہے۔

وزیر اعلیٰ کی جانب سے ان احکامات کے جاری ہونے پر ریاست میں ایک تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ خاص طور پر سابق ڈی ایم کے حکومت نے اس پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کے اس بیان پر کہ سابقہ حکومت نے خزانہ خالی کر دیا ہے، تجزیہ کاروں نے الگ الگ رائے ظاہر کی ہے۔کچھ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا دعویٰ صحیح نہیں ہے۔ ریاست کا خزانہ خالی نہیں ہے۔ جبکہ کچھ تجزیہ کاروں نے ان کے بیان سے اتفاق کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ پندرہ برسوں میں حکومت پر بالخصوص 2011 سے 2021 کے درمیان قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھا ہے۔ ریاست کے 2026-27 کے عبوری بجٹ کے مطابق ریاست کی مجموعی قومی پیداوار تقریباً 40 لاکھ کروڑ روپے سے 40.6 لاکھ کروڑ روپے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

بہرحال تمل ناڈو حکومت کی باگ ڈور اب ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں آگئی ہے جو ابھی دو سال قبل ہی سیاست میں آئے ہیں۔ جوزف وجے ریاست کے ایک مقبول فلم اداکار ہیں۔ وہ کئی سال سے عوامی فلاح و بہبود کے کام کرتے رہے ہیں۔ البتہ انھوں نے دو سال قبل اپنی سیاسی پارٹی ٹی وی کے قائم کی تھی۔ انھوں نے پہلے ہی انتخاب میں پورے ملک کو حیرت زدہ کر دیا۔ حالانکہ قیاس آرائی ڈی ایم کے کے جیتنے کی کی جا رہی تھی لیکن جیت گئی ٹی وی کے۔ تجزیہ کار اس توقع کا اظہار کر رہے ہیں کہ وجے ایک نوجوان ہیں، ان میں کام کرنے کا جوش ہے لہٰذا وہ عوامی خواہشات پر پورے اتریں گے۔

خیال رہے کہ تمل ناڈو میں فلمی ہستیوں کی سیاست میں کامیابی کی ایک تاریخ رہی۔ کے کروناندھی بھی پہلے فلم اداکار تھے۔ لیکن جب وہ سیاست میں آئے تو ایک عرصے تک وزیر اعلیٰ بنے رہے۔ اسی طرح جے للتا فلم اداکارہ رہی ہیں لیکن جب وہ سیاست میں آئیں تو انھوں نے ایک تاریخ بنا دی۔ اب وجے کی باری ہے۔ ان کو کانگریس بالخصوص راہل گاندھی کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ راہل گاندھی نے جس طرح شروع ہی میں ان کی حمایت کا اعلان کیا اور تقریب حلف برداری میں ان کے ساتھ موجود رہے وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وجے کے لیے کام کرنا مشکل نہیں ہوگا۔

ویسے سیاسی پارٹیاں انتخابات میں خوب وعدے کرتی ہیں لیکن برسراقتدار آنے کے بعد ان کو فراموش کر دیتی ہیں۔ لیکن جوزف وجے نے جس طرح حلف برداری کی تقریب میں ہی تین احکامات صادر کر دیے اور اس کے بعد مزید احکامات صادر کیے وہ اپنے آپ میں کسی تاریخی واقعے سے کم نہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...