
دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر اور سینئر ایڈوکیٹ سچن پوری نے بھی سپریم کورٹ میں جج کے اضافے کو ایک مثبت اور ضروری قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی تعداد بڑھانا وقت کا تقاضا ہے اور اس سے زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قدم سے مؤکلوں کے ساتھ ساتھ قانونی برادری کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ سُمت گہلوت نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ صرف ججوں کی تعداد بڑھانے سے زیر التوا مقدمات کا مسئلہ پوری طرح ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں تقریباً 95 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں، ایسے میں عدالتی اصلاحات، بہتر کیس مینجمنٹ اور تکنیکی بہتری کی بھی ضرورت ہے۔






