
چیف جسٹس سوریہ کانت۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: ہندوستان کے چیف جسٹس (سی جے آئی) سوریہ کانت نے جمعہ (15 مئی) کو ایک شنوائی کے دوران کچھ بے روزگار نوجوانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’کاکروچ‘ جیسے ہیں، جو آگے چل کر میڈیا، سوشل میڈیا اور آر ٹی آئی کارکن بن جاتے ہیں اور پھر سسٹم پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیہ باگچی کی بنچ ایک وکیل کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ میں سینئر ایڈووکیٹ بنائے جانے سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی۔ اسی دوران چیف جسٹس نے بعض وکلا کی لا ڈگریوں پر سوال اٹھاتے ہوئے عدلیہ پر بڑھتے ہوئے ’غیر مناسب حملوں‘ پر سخت تبصرہ کیا۔
وکلا کی قانون کی ڈگریوں کی جانچ کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض وکلا کی جانب سے پوسٹ کیے جانے والے مواد کو دیکھ کر انہیں کئی وکلا کی قانون کی ڈگریوں کی صداقت پر شدید شبہ ہے۔
سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ وہ وکلا کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی جانے والی سرگرمیوں اور تبصروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بار کاؤنسل آف انڈیا (بی سی آئی) کی وکیلوں کے ساتھ ’پوری طرح سے ملی بھگت‘ ہے، اس لیے اس سے کسی قسم کی کارروائی کی امید نہیں کی جا سکتی۔
درخواست گزار کو بار بار درخواستیں دائر کرنے پر سخت سرزنش کرتے ہوئے چیف جسٹس نے دہلی کے بعض وکلا کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس نے کہا؛
’میں ایک معاملے کا انتظار کر رہا ہوں… میں چاہتا ہوں کہ سی بی آئی دہلی کے زیادہ تر لوگوں کی ایل ایل بی ڈگریوں کی جانچ کرے… تیس ہزاری میں فلاں فلاں لوگ… جس قسم کی فیس بک پوسٹ اور چیزیں وہ ڈال رہے ہیں… کیا انہیں لگتا ہے کہ ہم انہیں نہیں دیکھ رہے؟ بی سی آئی کچھ نہیں کرے گی… ان میں ہزاروں لوگ دھوکے باز ہیں جو کالے کوٹ پہن کر گھوم رہے ہیں… مجھے ان کی لا ڈگریوں کے اصلی ہونے پر شدید شبہ ہے۔ شاید سی بی آئی کو ہی کچھ کرنا پڑے گا۔ بی سی آئی تو کبھی کچھ نہیں کرے گی، کیونکہ وہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔‘
اس کے بعد انہوں نے بعض ایسے لوگوں پر بھی تنقید کی جنہیں انہوں نے ’ پیراسائٹ ‘ اور ’کاکروچ‘ قرار دیا — جو ’عدلیہ پر حملہ کرنے‘ پر تُلے ہوئے ہیں —انہوں نے وکلا سے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کا ساتھ نہ دیں۔
انہوں نے کہا؛
’معاشرے میں پہلے ہی ایسے پیراسائٹ موجود ہیں جو سسٹم پر حملہ کرتے ہیں، اور آپ ان کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہتے ہیں؟ یہاں کچھ نوجوان کاکروچ جیسے ہیں، جنہیں نہ تو کوئی روزگار ملتا ہے اور نہ ہی کسی پیشے میں ان کی کوئی جگہ بنتی ہے۔ ان میں سے کچھ میڈیا اہلکار جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہو جاتے ہیں، کچھ آر ٹی آئی کارکن بن جاتے ہیں، اور کچھ دوسرے قسم کے کارکن؛ پھر وہ ہر کسی پر حملے شروع کر دیتے ہیں… اور آپ لوگ توہین عدالت کی درخواستیں دائر کرتے ہیں‘!
لائیو لا کے مطابق، عدالت نے کہا کہ سینئر وکیل کا درجہ ایک ایسی چیز ہے جو کسی شخص کو عطا کی جاتی ہے، اس کے لیے کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ کیا سینئر وکیل کا درجہ کوئی اسٹیٹس سمبل نہیں بن گیا، جسے صرف دکھاوے کے لیے رکھا جاتا ہے؟ عدالت نے کہا، ’آپ اسے آگے بڑھا رہے ہیں۔ کیا یہ مناسب معلوم ہوتا ہے؟‘
جب بنچ کو بتایا گیا کہ ہائی کورٹ میں اس وقت سینئر وکلا کے نامزدگی کا عمل جاری ہے، تو چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا؛
’پوری دنیا شاید سینئر درجہ حاصل کرنے کی اہل ہو سکتی ہے، لیکن کم از کم آپ نہیں ہیں۔ اگر ہائی کورٹ آپ کو سینئر بنا بھی دیتی ہے، تو ہم آپ کے پیشہ ورانہ رویے کو دیکھتے ہوئے اسے رد کر دیں گے۔‘
سی جے آئی کے تبصرے پر سخت تنقید
سی جے آئی کے تبصرے پر سوشل میڈیا پر کئی ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ راجیہ سبھا میں راشٹریہ جنتا دل کےایم پی منوج کمار جھانے ایک کھلا خط لکھ کر چیف جسٹس کی زبان پر تشویش کااظہار کیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہ خط شیئر کیا، جس میں لکھا ہے؛
’آپ کے حالیہ ریمارکس میں’کاکروچ‘اور’پیراسائٹ‘جیسے الفاظ نے ملک کے بے شمار شہریوں کی طرح، مجھے بھی شدید طور پرپر پریشان کیا ہے۔ تشویش صرف الفاظ کے انتخاب کی نہیں، بلکہ اُس سوچ کی ہے جو ان تبصروں میں جھلکتی ہے۔‘
— Manoj Kumar Jha (@manojkjhadu) May 15, 2026
منوج کمار جھا نے مزید کہا،’جب ایک آئینی جمہوریت کے چیف جسٹس بے روزگار نوجوانوں، آر ٹی آئی کارکنوں، میڈیا اہلکاروں اور اختلاف رائے رکھنے والوں کا موازنہ’کاکروچ‘اور’پیراسائٹ‘سے کرتے ہیں، تو یہ محض ذاتی غصے کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ جمہوریت کی بنیادی روح اور اس کی آئینی ثقافت کو مجروح کرتا ہے۔‘
کانگریس رہنما شمع محمدنے بھی سی جے آئی کے اس تبصرے پر تنقید کرتے ہوئے ایکس پر لکھا،’چیف جسٹس سوریہ کانت، یہ کیسی زبان ہے؟ آپ ملک کے نوجوانوں کو’پیراسائٹ‘اور’کاکروچ‘کہہ رہے ہیں۔ میں اس زبان کی سخت مذمت کرتی ہوں۔ چیف جسٹس کو معافی مانگنی چاہیے۔‘
What kind of language is this, CJI Suryakant?
You are calling the youngsters of the country “parasites” and “cockroaches.” I condemn this language, and the CJI must apologise. pic.twitter.com/oVY1MZPy5J
— Dr. Shama Mohamed (@drshamamohd) May 15, 2026
وہیں، آر ٹی آئی کارکن انجلی بھاردواج نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا،
’پیراسائٹ‘اور’کاکروچ‘جیسے الفاظ کا استعمال زیب نہیں دیتا۔‘
سی جے آئی کے تبصرے کو شیئر کرتے ہوئے انجلی بھاردواج نے لکھا،
’محترم، سوال پوچھنے کا حق جمہوریت کی روح ہے۔ اقتدار سے جواب طلب کرنے والے شہری سسٹم پر حملہ نہیں کرتے بلکہ اسے مضبوط رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔‘
Your Lordship, the right to question is the soul of democracy. Citizens holding power to account are not “attacking” the system, they are doing their bit to keep it robust. It does not behove the Chief Justice of the largest democracy in the world to use terms like parasites and… https://t.co/rr67PJCsZU
— Anjali Bhardwaj (@AnjaliB_) May 15, 2026
انہوں نے مزید کہا،’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے چیف جسٹس کو میڈیا، سوشل میڈیا، آر ٹی آئی اور دیگر کارکنوں جیسے نگرانی کرنے والے افراد کے لیے’پیراسائٹ‘اور ’کاکروچ‘جیسے الفاظ استعمال کرنا زیب نہیں دیتا۔‘
سینئر صحافی صبا نقوی نے ایکس پر لکھا،’ہندوستان کے چیف جسٹس نے ابھی کہا ہے کہ بے روزگار نوجوان کاکروچ جیسے ہیں، اور میڈیا و آر ٹی آئی کارکن بھی کاکروچ کی طرح ہیں، خاص طور پر بے روزگار لوگ۔ اگر یہ بیان انتہائی غلط انداز میں پیش نہیں کیا گیا، تو اس کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔‘
The Chief Justice of India just said that unemployed youth are like cockroaches and media and RTI activists are akin to cockroaches—-unemployed ones. No words unless this is a wild misquote. https://t.co/qtPXlo23ld
— Saba Naqvi (@_sabanaqvi) May 15, 2026
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہ،’سی جے آئی کی جانب سے نوجوانوں کے بارے میں یہ تبصرہ نہایت افسوسناک اور کسی حد تک عمومی نوعیت کا محسوس ہوتا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ ان کے سامنے موجود نوجوان غیر ذمہ دار ہو سکتا ہے۔‘
Very unfortunate & somewhat general remark made by the CJI against youngsters. I understand that the youngster before him may be irresponsible, but such general remarks reflect his antipathy towards activists, which also mirrors the view of the fascist ruling establishment. Sends… pic.twitter.com/PV4FamR15O
— Prashant Bhushan (@pbhushan1) May 15, 2026
انہوں نے مزید کہا،’لیکن اس طرح کا عمومی تبصرہ کارکنوں کے خلاف ان کے تعصب کو ظاہر کرتا ہے، جو موجودہ فاشسٹ حکمران نظام کی سوچ سے بھی میل کھاتا ہے۔ اس سے غلط پیغام جاتا ہے۔ انہیں اس پر معافی مانگنی چاہیے اور وضاحت دینی چاہیے۔‘
ادھر اداکاراتل کلکرنی نے طنزیہ انداز میں ایکس پر لکھا،’کیا یہ سچ ہے کہ کاکروچوں نے سپریم کورٹ میں پی آئی ایل دائر کی ہے؟ برسوں کی قومی اور جماعتی پالیسیوں کی ناکامیوں میں انہیں گھسیٹنے کے لیے؟‘
झुरळांनी सर्वोच्च न्यायालयात जनहित याचिका दाखल केली आहे हे खरं आहे?
बऱ्याच वर्षांच्या राष्ट्रीय आणि पक्षीय धोरणांच्या अपयशामधे विनाकारण त्यांना खेचल्या बद्दल?— atul kulkarni (@atul_kulkarni) May 16, 2026
یوتھ کانگریس کے سابق صدرشری نواس بی وی نے کہا،’مائی لارڈ، ایسا تو بی جے پی والے سوچتے تھے… لیکن آپ بھی؟‘
Mi-Lord.. Aisa toh BJP wale sochte the.. lekin aap bhi..?pic.twitter.com/eLZVeTMOxq
— Srinivas BV (@srinivasiyc) May 15, 2026
غور طلب ہے کہ سوشل میڈیا پر سی جے آئی سوریہ کانت کے تبصرے کی شدید تنقید ہو رہی ہے۔ کئی صحافی، کارکن اور سول سوسائٹی کے افراد انہیں جمہوریت اور آئین کی یاد دلا رہے ہیں۔ ساتھ ہی کئی لوگوں نے ان کی نظریاتی وابستگی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔






