ہندوستان کے معروف صنعت کار گوتم اڈانی کی کمپنی سے منسلک ایک کیس جو امریکہ میں چل رہا تھا، اس کو ختم کیے جانے کی خبر نے ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ دراصل ’بلومبرگ‘ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اتھارٹی گوتم اڈانی کے خلاف چل رہے دھوکہ دہی کے کیس کو ختم کرنے کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ امریکہ سے سامنے آئی اس رپورٹ کے بعد کانگریس نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے ’بلومبرگ‘ کی اس رپورٹ کا عنوان بشکل اسکرین شاٹ اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا ہے، اور لکھا ہے کہ ’’امریکہ میں اڈانی پر چل رہا فراڈ کیس بند ہو جائے گا۔ اب صاف ہے کہ مودی نے امریکہ کے ساتھ یکطرفہ (تجارتی) معاہدہ اس لیے کیا تاکہ اڈانی کو راحت مل سکے۔‘‘
کانگریس نے اڈانی معاملہ میں پی ایم مودی کو پوری طرح کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’اسی وجہ سے مودی امریکہ کے آگے کھل کر بول نہیں پاتے ہیں۔ ٹرمپ جتنا کہتے ہیں، مودی اتنا ہی کرتے ہیں۔ مودی پوری طرح سے کمپرومائزڈ ہیں۔‘‘ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بھی اس معاملہ میں اپنا تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ ’’کمپرومائزڈ پی ایم نے ٹریڈ ڈیل نہیں، اڈانی کی رِہائی کا سودا کیا۔‘‘
کانگریس نے مزید ایک معاملہ میں مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دراصل ’دی اکونومک ٹائمز‘ نے روس سے ایندھن کی خرید میں چھوٹ کی مدت کار بڑھانے سے متعلق حکومت ہند کی امریکہ سے گزارش پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت نے ملک کی انرجی سیکورٹی معاملہ پر امریکہ کے سامنے جو خود سپردگی کی، اس کی قیمت پورا ملک پٹرول، ڈیزل، گیس کی شدید قلت سے ادا کر رہا ہے۔‘‘ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’پہلے مودی حکومت نے امریکہ کے کہنے پر روس سے سستا تیل خریدنا بند کیا۔ پھر جنگ کے درمیان امریکہ نے ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے کی چھوٹ دی، جو 16 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔ اب ایک بار پھر مودی حکومت بجائے خود ملک کے مفاد میں فیصلہ لینے کی جگہ ٹرمپ کے آگے گڑگڑا رہی ہے، روس سے تیل خریدنے کی اجازت مانگ رہی ہے۔‘‘
مودی حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ جو فیصلہ ہمارا ہونا چاہیے تھا، اس کی اجازت ایک تیسرے ملک سے طلب کی جا رہی ہے۔ اس سے زیادہ ملک کی سالمیت اور خود مختاری کا کیا مذاق بنے گا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’ایپسٹین فائل اور اڈانی کی وجہ سے مودی ہندوستان کے وقار کا سودا کر رہے ہیں۔ ہم کس ملک سے تیل لیں گے، یہ طے کرنے والا امریکہ کون ہوتا ہے؟‘‘ ساتھ ہی کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’ہندوستان کا فیصلہ ہندوستان لے گا، ہم ہندوستان کے لوگ لیں گے، نہ کہ وہائٹ ہاؤس میں بیٹھا کوئی امریکی۔‘‘ آخر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’ایک کمپرومائزڈ وزیر اعظم کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔ شرمناک!‘‘






























