
موہن بھاگوت 2009 سے آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک ہیں۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی:راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کی سکیورٹی پر مرکزی حکومت کتنا خرچ کرتی ہے، اس بارے میں دائر آر ٹی آئی درخواستوں کے جواب میں وزارت داخلہ اورسنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) نے جانکاری دینے سے منع کر دیا ہے۔
جہاں وزارت نے سکیورٹی اور پرائیویسی سے متعلق دفعات کا حوالہ دیا، وہیں سی آئی ایس ایف نے خود کو آر ٹی آئی قانون سے مستثنیٰ ادارہ قرار دیتے ہوئے معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا۔
غور طلب ہے کہ موہن بھاگوت کوئی آئینی عہدیدار نہیں ہیں۔ وہ ایک غیر سرکاری تنظیم آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک ہیں، لیکن انہیں مرکزی حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطح کی سکیورٹی حاصل ہے۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ ان کی سکیورٹی پر کتنا خرچ کیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک شخص کی سکیورٹی کا نہیں، بلکہ اس شفافیت کا بھی ہے جو عوامی فنڈز اور ریاستی وسائل کے استعمال سے منسلک ہوتی ہے۔
آر ٹی آئی میں کیا پوچھا گیا تھا؟
قابل ذکر ہے کہ16 اپریل 2026 کو اس نمائندہ نے وزارت داخلہ کو آر ٹی آئی درخواست بھیج کر سات نکات پر معلومات طلب کی تھیں۔ اس میں موہن بھاگوت کی سکیورٹی پر اب تک ہونے والےمجموعی اخراجات، 2015 سے اب تک سالانہ خرچ، سی آئی ایس ایف، ریاستی پولیس اور دیگر ایجنسیوں پر ہونے والے اخراجات، گاڑیوں، مواصلاتی نظام، ہتھیاروں، سفر اور دیگر انتظامات پر خرچ، سکیورٹی بڑھائے جانے کے بعد اضافی اخراجات وغیرہ کی معلومات مانگی گئی تھیں۔
اسی موضوع پر سی آئی ایس ایف کو الگ درخواست میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ موہن بھاگوت کی سکیورٹی کے لیے سی آئی ایس ایف کب سے تعینات ہے، کتنے اہلکار لگائے گئے ہیں، رینک کے لحاظ سے ان کی تعداد کیا ہے، کیا کوئی خصوصی سکیورٹی یونٹ مقرر ہے یا نہیں، اور سی آئی ایس ایف اس وقت کتنے وی وی آئی پی/وی آئی پی افراد کو سکیورٹی فراہم کر رہی ہے۔
وزارت داخلہ نے کیا جواب دیا؟
وزارت داخلہ کے وی آئی پی سکیورٹی یونٹ نے 7 مئی 2026 کو بھیجے گئے جواب میں کہا کہ درخواست میں مانگی گئی معلومات آرٹی آئی قانون 2005 کی دفعہ 8(1)(جی) اور 8(1)(جے)کے تحت مستثنیٰ ہیں، اس لیے فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
وزارت داخلہ کا جواب۔
یعنی وزارت نے نہ تو اخراجات کا کوئی اعداد و شمار دیا، نہ سکیورٹی کی سطح کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم کیں اور نہ ہی ایس او پی شیئر کیے۔
ان دفعات کا مطلب کیا ہے؟
دفعہ 8(1)(جی) کہتی ہے کہ ایسی معلومات روکی جا سکتی ہیں جن سے کسی شخص کی جان یا سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو، یا قانون نافذ کرنے والے ذرائع کی شناخت ظاہر ہونے کا اندیشہ ہو۔
دفعہ 8(1)(جے) ذاتی معلومات سے متعلق ہے۔ اس کے تحت ایسی نجی معلومات دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے جن کا کسی عوامی سرگرمی یا عوامی مفاد سے براہ راست تعلق نہ ہو، یا جن سے کسی فرد کی پرائیویسی میں غیر ضروری مداخلت ہو۔
وزارت داخلہ نے ان دونوں دفعات کا استعمال کرتے ہوئے یہ اشارہ دیا کہ سکیورٹی پر ہونے والے اخراجات، وسائل اور انتظامات کی تفصیلات ظاہر کرنا سکیورٹی رسک یا نجی معلومات کا مسئلہ بن سکتا ہے۔
تاہم، آر ٹی آئی کارکنوں کا مؤقف رہا ہے کہ مجموعی عوامی اخراجات بتانا اور سکیورٹی کی حکمت عملی سے متعلق گہری تفصیلات ظاہر کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی شخص کی سکیورٹی پر ہونے والے کل سالانہ اخراجات بتانے کا یہ مطلب نہیں کہ آپریشنل تفصیلات بھی ظاہر کی جائیں۔
سی آئی ایس ایف نے کیا کہا؟
سی آئی ایس ایف کا جواب۔
غور طلب ہے کہ24 اپریل 2026 کو اپنے جواب میں سی آئی ایس ایف نے کہا کہ آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 24 اور دوسری شیڈول کے تحت یہ ایک ایسی تنظیم ہے جسے عمومی معاملات میں معلومات فراہم کرنے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ سی آئی ایس ایف نے کہا کہ صرف بدعنوانی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق معاملات میں ہی معلومات دی جا سکتی ہیں۔ چونکہ مانگی گئی معلومات ان زمروں میں شامل نہیں، اس لیے درخواست ’قابل غور‘نہیں ہے۔
دفعہ 24 کے تحت ملک کی بعض خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کو آر ٹی آئی کے دائرے سے بڑے پیمانے پر استثنیٰ دیا گیا ہے۔ سی آئی ایس ایف نے اسی قانونی شق کا سہارا لیا۔

ان جوابات کا کیا مطلب ہے؟
دونوں جوابات کو ایک ساتھ پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ موہن بھاگوت کی سکیورٹی پر ہونے والے عوامی اخراجات کے بارے میں شہریوں کو تقریباً کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ وزارت داخلہ سکیورٹی اور رازداری کا حوالہ دیتی ہے، جبکہ سی آئی ایس ایف ادارہ جاتی استثنیٰ کا۔
یہ صورتحال اس بحث کو جنم دیتی ہے کہ جب سکیورٹی پر خرچ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ہوتا ہے، تو کیا کم از کم مجموعی اخرجات کی جانکاری عوامی نہیں ہونی چاہیے؟ کیا کل اخراجات بتانے سے سکیورٹی انتظامات خطرے میں پڑ جاتے ہیں؟ یا پھرہندوستان میں وی آئی پی سکیورٹی ایسا شعبہ بن چکا ہے جہاں جوابدہی محدود ہے؟
موہن بھاگوت کو سکیورٹی کب ملی اور کیسے بڑھتی گئی
موہن بھاگوت 2009 سے آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں ان کی سکیورٹی کئی مراحل میں تبدیل اور مزید مضبوط کی گئی۔ یہ تبدیلی صرف سکیورٹی ایجنسیوں کے جائزوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بھی بنی۔
خبریں بتاتی ہیں موہن بھاگوت کو 2012 میں یو پی اے حکومت کے دوران زیڈ پلس سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اس وقت ان کی سکیورٹی کی ذمہ داری بنیادی طور پر مہاراشٹر پولیس کے پاس تھی، جبکہ سینٹرل فورسز کا کردار محدود تھا۔ رپورٹ کے مطابق، مرکزی حکومت نے مہاراشٹر پولیس کو ضروری نفری تعینات کرنے کی ہدایت دی تھی اور سی آئی ایس ایف کے کردار کی بھی تجویز دی گئی تھی۔
تاہم، اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ سی آئی ایس ایف کے اسپیشل سکیورٹی گروپ (ایس ایس جی) نے فوری طور پر مکمل ذمہ داری نہیں سنبھالی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ فورس کے پاس مطلوبہ افرادی قوت موجود نہیں تھی اور وہ سکیورٹی کی ذمہ داری واضح طور پر ایک ہی ایجنسی کے سپرد کرنا چاہتی تھی۔
ایک سی آئی ایس ایف افسر نے کہا تھا، ’بہتر یہی ہوتا ہے کہ سکیورٹی کی ذمہ داری صرف ایک فورس کو دی جائے۔‘ یہی وجہ تھی کہ فیصلہ ہونے کے باوجود سی آئی ایس ایف طویل عرصے تک براہ راست سکیورٹی میں شامل نہیں ہوئی۔
مرکز میں نریندر مودی کی حکومت بننے کے صرف ایک سال بعد، جون 2015 میں وزارت داخلہ نے موہن بھاگوت کی سکیورٹی مکمل طور پر سی آئی ایس ایف کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔ دی ہندو کی رپورٹس کے مطابق، اس کے بعد ناگپور میں واقع آر ایس ایس ہیڈکوارٹر، بھاگوت کی رہائش گاہ اور ملک بھر کے دوروں کے دوران ان کی سکیورٹی سی آئی ایس ایف کمانڈوز نے سنبھالنی شروع کی۔
اس تبدیلی کے ساتھ سکیورٹی نظام میں کئی نئے عناصر شامل ہوئے۔ بھاگوت کی سکیورٹی کے لیے تقریباً 60 تربیت یافتہ کمانڈوز چوبیس گھنٹے تعینات کیے گئے۔ سی آئی ایس ایف کی وی وی آئی پی کمانڈو یونٹ کو جدید اسلحے، اے کے سیریز رائفلز، مواصلاتی آلات اور اینٹی سبوتاژ ٹکنالوجی سے لیس بتایا گیا۔ ان کے قافلے کی گاڑیوں کو بھی زیڈ پلس سکیورٹی معیار کے مطابق تبدیل کیا گیا۔
اگست 2024 میں خفیہ ایجنسیوں سے نئے خطرات کی ان پٹ موصول ہونے کے بعد موہن بھاگوت کی موجودہ زیڈ پلس سکیورٹی میں ایڈوانس سکیورٹی لائژن(اے ایس ایل)شامل کیا گیا۔ یہ اضافی سکیورٹی صرف مخصوص انتہائی خطرے والے افراد کو دی جاتی ہے۔ اس وقت وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی ان چند افراد میں شمار کیا جاتا تھا جنہیں اے ایس ایل سکیورٹی حاصل تھی۔
اے ایس ایل نظام کے تحت کسی بھی دورے سے پہلے ایک خصوصی ٹیم متعلقہ مقام کا دورہ کرتی ہے، مقامی پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کرتی ہے، ممکنہ خطرات کا جائزہ لیتی ہے، خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور متعدد سطحوں پر مشتمل سکیورٹی حصار تیار کرتی ہے۔ اس میں سفر کے راستے، پروگرام کے مقام، طبی امداد اور ہنگامی ردعمل تک سب شامل ہوتا ہے۔
خبروں کے مطابق، سکیورٹی ایجنسیوں کو اطلاعات ملی تھیں کہ کچھ ممنوعہ تنظیمیں آر ایس ایس کے سربراہ کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ اس کے بعد وزارت داخلہ نے جائزہ لے کر سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
جب ایک بی جے پی رہنما نے بھاگوت کی سکیورٹی پر سوال اٹھایا
موہن بھاگوت کی سکیورٹی بڑھانے پر سوال صرف اپوزیشن کی طرف سے ہی نہیں بلکہ بی جے پی کے اندر سے بھی اٹھے تھے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، راجستھان بی جے پی کے اس وقت کے ترجمان کیلاش ناتھ بھٹ نے فیس بک پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ آر ایس ایس سربراہ کو زیڈ پلس سکیورٹی کیوں دی گئی اور کیا اس سے وہ عام سویم سیوکوں سے دور نہیں ہو جائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ8جون 2015 کی ایک فیس بک پوسٹ میں بھٹ نے لکھاتھا،’مجھے نہیں معلوم کہ سرسنگھ چالک جی کو زیڈ پلس سکیورٹی کیوں دی گئی اور انہوں نے اسے قبول کیا ہے یا نہیں؟ آج ملک کا سکیورٹی اہلکار ہی محفوظ نہیں ہے، حال ہی میں ہمارے 20 سے زیادہ جوان منی پور میں شہید ہو گئے۔ مشکل حالات میں گرو جی، بالا صاحب دیورس جی کی حفاظت بھگوان نے کی تھی۔ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی ہلاکت سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ بھگوان نے سب کی حفاظت کی ذمہ داری لے رکھی ہے، پھر یہ خوف کیوں؟ کیا یہ سکیورٹی آپ کو عام سویم سیوکوں سے دور نہیں کرے گی؟ کیا یہ نظام اسٹیٹس سمبل نہیں بن جائے گا؟ غلطی کے لیے معذرت خواہ ہوں، لیکن اپنے خیالات کو روک نہیں پایا۔‘
اس تبصرے کے بعد پارٹی کے اندر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ بعد میں کیلاش ناتھ بھٹ نے معافی مانگی، لیکن انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ ریاستی قیادت نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ بھاگوت کی سکیورٹی کا مسئلہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے اندر بھی بے چینی پیدا کر چکا ہے۔
معاملہ عدالت تک بھی پہنچا
حالیہ برسوں میں موہن بھاگوت کی سکیورٹی کو قانونی چیلنج کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں ایک پی آئی ایل دائر کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ آر ایس ایس چیف کو دی جانے والی زیڈ پلس سکیورٹی کا خرچ سنگھ سے وصول کیا جائے۔ درخواست گزار کی دلیل تھی کہ عوامی پیسہ کسی نجی تنظیم کی سکیورٹی پر خرچ نہیں ہونا چاہیے۔
تاہم بنچ نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ،’ہمیں اس درخواست میں، جو مفاد عامہ کی درخواست کے طور پر پیش کی گئی ہے، کوئی عوامی مفاد نظر نہیں آتا۔‘
عدالت میں ریاستی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سرکاری وکیل دیویندر وی چوہان نے بھی اس درخواست کی مخالفت کی تھی۔






