ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے میں اتحاد کی باتیں، ٹی وی کے کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش!

AhmadJunaidJ&K News urduMay 8, 2026364 Views


اداکار سے سیاستدان بنے وجے کی قیادت میں ٹی وی کے نےحالیہ انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر کامیابی حاصل کی لیکن پھر بھی مطلوبہ 118 اراکین کی اکثریت سے کم ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

معلق اسمبلی کے بعد تمل ناڈو میں حکومت سازی پر سسپنس مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ وجے کے تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) نے گورنر کے سامنے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے، لیکن ان سے مطلوبہ اکثریت ثابت کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

اداکار سے سیاست دان بنے وجے کی قیادت میں تملگا ویٹری کزگم (TVK)، حالیہ انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری، جس نے 108 نشستیں حاصل کیں، لیکن پھر بھی 238 رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے درکاراکثریت 118 ارکان سے کم ہے۔ پارٹی کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے کم از کم 10 مزید ایم ایل ایز کی حمایت درکار ہے۔

دریں اثنا، دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) اور آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے درمیان ممکنہ بات چیت کی اطلاعات نے سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق، اگر ڈی ایم کے یا اے آئی اے ڈی ایم کے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو پارٹی کے تمام 108 ایم ایل ایز استعفیٰ دے سکتے ہیں۔

اسے ایک بڑا اور جارحانہ سیاسی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ریاست کی سیاست میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔ درحقیقت، ٹی وی کےکو شبہ ہے کہ ڈی ایم کے اوراے آئی اےڈی ایم کے کا اتحاد وجے کو اقتدار سے دور رکھنے کی سازش کر رہے ہیں۔ اس کی روشنی میں ڈی ایم کے نے اسٹالن کو ہنگامی سیاسی فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہے۔ تامل ناڈو کی صورتحال اس وقت انتہائی غیر یقینی ہے۔ دوسری جانب ٹی وی کے اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ممکنہ نئے اتحاد ریاست کے سیاسی منظر نامے کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتے ہیں۔

ٹی وی کےلیڈر سی ٹی آر کمار نے حمایت حاصل کرنے کے لیے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ایم ویراپانڈیان اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے پی شانموگم سے ملاقات کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وجے پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اقتدار کی تقسیم ضروری ہے تاکہ اتحادی اپنی متعلقہ پالیسیوں اور نظریات کو نافذ کر سکیں۔کمار نےانڈین یونین مسلم لیگ (IUML) کو ای میل اور رسمی خطوط کے ذریعے حمایت کی درخواستیں بھیجی ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ پارٹی تمل ناڈو میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹی وی کےنے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) سے رابطہ نہیں کیا ہے اور اس کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پانچ سیٹیں جیتنے والی کانگریس نے پہلے ہی ٹی وی کےکی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔کمار نے کہا کہ آئینی کنونشن کے مطابق گورنر کو حکومت بنانے کے لیے سب سے بڑی پارٹی کو مدعو کرنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مینڈیٹ ٹی وی کے کے حق میں ہے اور اسی بنیاد پر وجے کو وزیر اعلیٰ بننے کا موقع دیا جانا چاہیے۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...