
تصویر بہ شکریہ: وکی پیڈیا
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل (28 اپریل) کو سبریمالا کیس کی سماعت کے دوران ایک اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عدالتیں کسی مذہبی فرقے کے بنیادی مذہبی معاملوں پر فیصلہ نہیں سنا سکتی ہیں، لیکن ریاست کو ان معاملوں میں مداخلت کامکمل اختیار حاصل ہے جہاں مذہبی حقوق کا استعمال سیکولر سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی نو ججوں کی بنچ نے آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے باہمی تعلق پر مفصل شنوائی کے دوران اس فرق کو واضح کیا۔
بنچ نے کیرالہ کے تیرتھ استھل میں ماہواری والی خواتین کے داخلے سے متعلق تنازعہ اوراس سے جڑے وسیع سوالوں کا بھی جائزہ لیا۔ اس آئینی بنچ میں چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس بی وی ناگرتنا، جسٹس ایم ایم سندریش، جسٹس احسان الدین امان اللہ، جسٹس اروند کمار، جسٹس آگسٹین جارج مسیح، جسٹس پرسنا بی ورالے، جسٹس آر مہادیون اور جسٹس جوائے مالیا باگچی شامل ہیں۔
سماعت کے دوران بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی معاملوں میں خودمختاری، خاص طور پر عبادت کے طریقوں اور بنیادی مذہبی رسومات کے حوالے سے، عدالتی جانچ سے بالاتر رہتی ہے۔ تاہم جسٹس ناگرتنا نے واضح کیا کہ جب مذہبی رسومات عوامی زندگی کو متاثر کرنے والے شعبوں میں داخل ہوتی ہیں تو یہ تحفظ بالکلیہ قائم نہیں رہتا۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایک مندر اپنے مذہبی رسومات آزادانہ طور پر ادا کر سکتا ہے، لیکن وہ مذہب کی آڑ میں شہری نظم و نسق کو متاثر نہیں کر سکتا۔
جسٹس ناگرتنا نے کہا،’آپ اپنی مذہبی سرگرمیاں انجام دیں، لیکن سڑکوں کو بند کر کے نہیں… ریاست مداخلت کر سکتی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں عبادت کے طریقوں میں مداخلت نہیں کریں گی، لیکن ان معاملات میں مداخلت کر سکتی ہیں جن کے سیکولر نتائج ہوں۔
قابل ذکر ہے کہ یہ تبصرہ آرٹیکل 25(2)(الف) کی بنیاد سے متعلق ہے، جو مذہب سے جڑی اقتصادی، مالیاتی اور دیگر سیکولر سرگرمیوں پر ریاستی ضابطہ بندی کی اجازت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 اور 26 مذہبی آزادی اور فرقہ وارانہ حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔
سماعت کے دوران جب دلائل مختلف مذاہب کے موازنے کی طرف مڑ گئے تو بنچ نے سخت تبصرے کیے۔ عدالت نے وکیل اشونی اپادھیائے کو کسی بھی مذہب یا زبان کو دوسروں سے برتر قرار دینے کے خلاف خبردار کیا اور عدالت میں آئینی غیر جانبداری برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک موقع پر جب بحث کے دوران مذاہب کے درمیان درجہ بندی کی بنیاد پر فرق کرنے کی کوشش کی گئی تو جسٹس ناگرتنا نے کہا:’سب برابر ہیں۔‘ جبکہ جسٹس امان اللہ نے وکیلوں کو یاد دلایا کہ اس طرح کے دلائل’عوامی پلیٹ فارم‘پر دیے جا رہے ہیں۔
جسٹس سندریش نے بھی اس دلیل کو’نامناسب‘قرار دیا، جس کے بعد بنچ نے بحث کو دوبارہ آئینی اصولوں کی طرف موڑ دیا۔
معلوم ہو کہ سبریمالا تنازعہ سے پیدا ہونے والے وسیع تر پس منظر کے تحت جاری یہ کارروائی اس بات پر مرکوز ہے کہ عدالتیں مذہبی روایات کی جانچ آئینی ضمانتوں، جیسے مساوات اور عدم امتیاز، کی بنیاد پر کس حد تک کر سکتی ہیں۔
کچھ وکیلوں نے دلیل دی کہ’ضروری مذہبی روایات‘کو سماجی اصلاحات سے بھی مستثنیٰ رکھا جانا چاہیے، جبکہ دیگر نے کہا کہ اس طرح کا اصول اخراجی (امتیازی) روایات کی جانچ سے بچنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔
یہ معاملہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت انفرادی مذہبی آزادی اور آرٹیکل 26 کے تحت فرقوں کے اجتماعی حقوق کے درمیان پیچیدہ تعلق کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
معلوم ہو کہ سبریمالا مندر میں ہر عمر کی خواتین کے داخلے کی اجازت دینے والے 2018 کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرنے والے وکیلوں کے ایک گروپ نے اس بات پر زور دیا کہ آرٹیکل 26 کے حقوق، خصوصاً مذہبی معاملات کے انتظام کا حق، آرٹیکل 25 کی آزادی کے مؤثر استعمال کے لیے ناگزیر ہیں۔
ایک وکیل نے اس تعلق کو’باہمی اور ایک دوسرے پر منحصر‘قرار دیا۔ سینئر وکیل مادھوی دیوان، شری دھر پوٹاراجو، نچیکیت جوشی اور ایڈووکیٹ فوزیہ شکیل، انیرودھ شرما، میتھیوز نیدومپارا، نظام پاشا، اتولیش کمار اور ایکلویہ دیویدی نے نظرثانی کے حق میں دلائل پیش کیے۔
سماعت کے دوران ایک اہم اختلاف ریاستی مداخلت کی قابل قبول حد سے متعلق تھا۔ جہاں ایک طرف کچھ دلائل میں کہا گیا کہ سماجی اصلاح کسی مذہب کی بنیادی شناخت کو ختم نہیں کر سکتی، وہیں دوسری طرف دیگر دلائل میں آئینی دفعات کا حوالہ دیا گیا جو واضح طور پر اصلاح پر مبنی مداخلت کی اجازت دیتی ہیں۔
بنچ نے خود اس نازک توازن کو تسلیم کیا۔ جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ آئین میں اصلاح کو ممکن بنانے والی دفعات، خاص طور پر ہندو تناظر میں، ذات پات پر مبنی امتیاز جیسی تاریخی حقیقتوں کے جواب میں بنائی گئی تھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ آئین تمام مذاہب پر یکساں اصول لاگو نہیں کرتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے اشارہ دیا کہ ریاست کی کوئی بھی کارروائی متناسب ہونی چاہیے اور عوامی نظم و نسق، اخلاقیات اور صحت جیسے آئینی طور پر منظور شدہ اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے 2018 کے اس فیصلے سے جڑا ہے جس میں سبریمالا مندر میں ہر عمر کی خواتین کے داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس فیصلے نے حیض کی عمر کی خواتین کے مندر میں داخلے پر طویل عرصے سے جاری پابندی کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد 2019 میں نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے مذہبی آزادی سے متعلق وسیع آئینی سوال اٹھائے تھے، لیکن اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا اور درخواستوں کو ایک بڑی بنچ کے سپرد کر دیا گیا تھا۔
موجودہ کارروائی سے توقع ہے کہ اس کے اثرات سبریمالا سے آگے تک جائیں گے اور مختلف مذاہب میں عقیدے پر مبنی روایات کو منظم کرنے والے قانونی ڈھانچے کو ممکنہ طور پر شکل دیں گے۔
Categories: خبریں






