ہیٹ اسپیچ کا جرم قانون کے دائرے میں نہیں آتا، یہ تصور ’گمراہ کن‘ ہے: سپریم کورٹ

AhmadJunaidJ&K News urduApril 30, 2026359 Views


سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ ان عرضیوں کے ایک گروپ پر فیصلہ سناتے ہوئے کیا، جن میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے رہنما اصول جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یہ دلیل کہ ہیٹ اسپیچ کا دائرہ قانون سازی کے لحاظ سے خالی ہے، گمراہ کن ہے۔ موجودہ فوجداری قانون کا ڈھانچہ، جس میں تعزیرات ہند اور دیگر متعلقہ قوانین کی دفعات شامل ہیں، ان  سرگرمیوں سے مؤثر طور پر نمٹتا ہے۔

تصویر: دی وائر

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ (28 اپریل) کو کہا کہ یہ تصور کہ ہیٹ اسپیچ کا جرم قانون کے دائرے میں نہیں آتا، ’گمراہ کن‘ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ موجودہ فوجداری قانون اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کافی ہے اور اس سلسلے میں کوئی قانونی خلا موجود نہیں ہے۔

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، ’عدالت نے کہا، یہ دلیل کہ ہیٹ اسپیچ کا میدان قانون سازی کے لحاظ سے خالی ہے، گمراہ کن ہے۔ موجودہ فوجداری قانون کا ڈھانچہ، جس میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) اور دیگر متعلقہ قوانین کی دفعات شامل ہیں، دشمنی کو فروغ دینے، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے یا عوامی امن کو خراب کرنے والی سرگرمیوں سے مؤثر طور پر نمٹتا ہے۔ اس لیے یہ میدان خالی نہیں ہے۔‘

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتہ پر مشتمل بنچ نے یہ تبصرہ ان درخواستوں کے ایک گروپ پر فیصلہ سناتے وقت کیا، جن میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے رہنما اصول جاری کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

عدالت نے کہا،’فوجداری جرائم کو متعین کرنا اور ان کی سزا مقرر کرنا مکمل طور پر مقننہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اختیارات کی علیحدگی کے اصول پر مبنی آئینی نظام عدلیہ کو نئے جرائم بنانے یا عدالتی ہدایات کے ذریعے فوجداری ذمہ داری کے دائرے کو وسیع کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔‘

عدالت نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ عدالت صرف اصلاحات کی ضرورت کی طرف مقننہ اور انتظامیہ کی توجہ مبذول کرا سکتی ہے۔

اگرچہ عدالت نے تسلیم کیا کہ درخواست گزاروں کی شکایت قانون کی عدم موجودگی سے نہیں بلکہ اس کے نفاذ میں کمی سے پیدا ہوتی ہے، تاہم اس نے کہا کہ اس طرح کی تشویش عدلیہ کی جانب سے قانون سازی کو جائز قرار نہیں دیتیں۔

عدالت نے کہا کہ’ہندوستانی شہری تحفظ ضابطہ‘قابل دست اندازی جرائم میں ایف آئی آر درج کرنے کا اہتمام فراہم کرتا ہے، اور پولیس کی جانب سے کوتاہی کی صورت میں مجسٹریٹ کے سامنے رجوع کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔

لائیو لا کے مطابق، عدالت نے کہا،’اگرچہ ہم مانگی گئی ہدایات جاری کرنے سے انکار کرتے ہیں، ہم یہ کہنا مناسب سمجھتے ہیں کہ نفرت انگیز تقاریر اور افواہیں پھیلانے سے متعلق مسائل براہ راست بھائی چارے، وقار اور آئینی نظام کے تحفظ سے جڑے ہیں۔ مرکز اور ریاستوں کے لیے یہ کھلا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے سماجی حالات اور چیلنجز کے پیش نظر مزید قانون سازی کی ضرورت پر غور کریں، یا 23 مارچ 2017 کی لاء کمیشن کی 267ویں رپورٹ کے مطابق مناسب ترامیم کریں۔‘

ان درخواستوں کا یہ گروپ ان واقعات کے تناظر میں دائر کیا گیا تھا، جن میں سوشل میڈیا پر’کورونا جہاد‘جیسی بدنام کرنے والی مہم، سدرشن ٹی وی کے ذریعے نشر کیا گیا’یو پی ایس سی جہاد‘شو، اور’دھرم سنسد‘جیسے اجتماعات و دیگر مذہبی مجالس میں دیے گئے مبینہ نفرت انگیز بیانات شامل تھے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...