مہاراشٹر میں ہندوتوا گروہ نے دو ٹرک ڈرائیوروں کا پیچھا کر کے حملہ کیا، متاثرہ آئی سی یو میں

AhmadJunaidJ&K News urduApril 27, 2026362 Views


گزشتہ 23 اپریل کو مہاراشٹر کے ضلع یوتمل میں ایلون اور ان کے ساتھی محمد نداف نثار قریشی کیرالہ کے پلکڑ ضلع کے پٹامبی قصبے سے پھلوں سے لدا ٹرک لے کر مدھیہ پردیش جا رہے تھے، جب راستے میں ہتھیاروں سے لیس افراد کے ایک گروہ نے ان کی گاڑی کو روک کر حملہ کر دیا۔ قریشی شدید زخمی ہیں اور آئی سی یو میں بھرتی ہیں۔ اس کے باوجود پولیس نے ’روڈ ریج‘کا کیس درج کر کےہلکی دفعات ہی لگائی ہیں۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

’انہوں نے ہمارے ٹرک کا 20–30 کلومیٹر تک پیچھا کیا۔ شروع میں وہ پانچ چھ لوگ تھے، لیکن جب تک انہوں نے ہمیں اوورٹیک کر کے روکا، ان کی تعداد تقریباً 20 ہو چکی تھی۔‘ ٹرک ڈرائیور ایلون نے بتایا، جو مہاراشٹر کے یوتمل ضلع کے امرکھیڈ تعلقہ کے قریب حملے کا شکار ہونے والے دو افراد میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے حملہ آوروں کے گروہ کو’ہندوتوا گروہ‘بتایا۔

ایلون اور ان کے ساتھی محمد نداف نثار قریشی، کیرالہ کے پلکڑ ضلع کے پٹامبی قصبہ سے پھلوں سے لدا ٹرک لے کر مدھیہ پردیش جا رہے تھے کہ راستے میں ہتھیاروں سے لیس افراد کے ایک گروہ نے ان کی گاڑی روک کر حملہ کر دیا۔ ایلون کو معمولی چوٹیں آئیں، جبکہ قریشی کے سر اور ناک پر شدید زخم آئے اور وہ 24 اپریل سے ناندیڑ کے مضافات میں واقع ایک نجی اسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔

فون پر واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ایلون نے دعویٰ کیا کہ حملہ بلا کسی اشتعال کے ہوا۔ انہوں نے کہا،’ہمیں اچانک روکا گیا۔ میں نے دیکھا کہ ان کے پاس ہتھیار تھے۔ میں اتنا ڈر گیا تھا کہ گاڑی روکنے کے بجائے چلاتے رہنے کا فیصلہ کیا۔‘

مہاراشٹر کی سڑکوں پر اس طرح کے واقعات عام ہیں۔ کئی خود ساختہ نگرانی کرنے والے گروپ ،جو دائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ بتائے جاتے ہیں، سڑکوں پر گاڑیاں روک کر غیر قانونی  طور پر تلاشی لیتے ہیں اور ڈرائیوروں کو دھمکاتے ہیں۔ یہ’چیک پوسٹ‘اکثر گائے کے گوشت کی تلاشی کے نام پر لگائی جاتی ہیں، لیکن زیادہ تر معاملوں میں مسلم یا بہوجن برادری سے تعلق رکھنے والے ڈرائیوروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان پر حملہ کیا جاتا ہے۔

لمبی دوری تک گاڑی چلانے والے ایلون اور قریشی کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصے سے مہاراشٹر کی سڑکوں پر رات کے وقت ڈرائیونگ سے گریز کر رہے ہیں۔ جنوبی کرناٹک کے ملکی کے رہائشی ایلون نے بتایا،’جنوبی ہندوستان میں رجسٹرڈ گاڑیاں اور ہمارا حلیہ، جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہم ہندو نہیں ہیں، ہمیں ایسے گروہوں کے نشانے پر لے آتا ہے جو رات میں سرگرم رہتے ہیں اور اپنے شکار کی تلاش میں کرتے ہیں۔‘

یہ واقعہ 23 اپریل کو پیش آیا تھا، لیکن 24 گھنٹے سے زائد وقت تک پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ بعد میں پولیس نے اسے’روڈ ریج‘یعنی سڑک پر غصے سے جڑا معاملہ قرار دیا اور کہا کہ حملہ آور اس لیے ناراض تھے کیونکہ متاثرین نے ان کی گاڑی کو اوورٹیک کیا تھا۔ جانچ افسر بارگے نے تصدیق کی کہ چھ افراد کو دو دن کی پولیس حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا،’ہم ایک اور شخص کی تلاش کر رہے ہیں۔‘

متاثرین کے مطابق پولیس اس معاملے کو عام’روڈ ریج‘قرار دے کر اس کی معمولی واقعہ کی طرح پیش کر رہی ہے۔ قریشی کے ایک رشتہ دار نے دی وائر کو بتایا،’وہ لوگ ہتھیاروں سے لیس تھے اور سڑک پر نگرانی کر رہے تھے۔‘ قریشی کے خاندان نے الزام لگایا،’یہ حملہ انتہائی سنگین نوعیت کا تھا۔ انہوں نے جان سے مارنے کے ارادے سے حملہ کیا تھا۔‘

قریشی، جو حملے کے بعد سے آئی سی یو میں ہیں، انہیں متعدد سرجریوں کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے باوجود پولیس نے صرف ہلکی دفعات ہی لگائی ہیں۔

دونوں متاثرین سماج کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور 25 اپریل کی شام تک ان کے اہل خانہ مختلف تنظیموں سے مالی مدد کی اپیل کر رہے تھے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...