-
تعلیم سب سے طاقتور ہتھیار ہے، جس کے ذریعہ آپ دنیا کو بدل سکتے ہیں۔
-
’علم‘ ایسے گھروں کو بھی بلند کر دیتا ہے جس کا کوئی ستون نہ ہو، اور ’جہالت‘ عزت و شرافت والے گھرانوں کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔
پہلا قول جنوبی افریقہ کے سابق صدر اور سماجی انصاف کے علمبردار نیلسن منڈیلا کا ہے، جو تعلیم کی اہمیت و افادیت کو بہت واضح لفظوں میں ظاہر کر رہا ہے۔ دوسرا قول دراصل مصر کے مشہور شاعر احمد شوقی کے ایک عربی شعر کا ترجمہ ہے، جو علم اور جہالت کے درمیان موجود نمایاں فرق کو پیش کر رہا ہے۔ آج ہر والدین اپنے بچوں کو ایسی ہی تعلیم دینا چاہتا ہے، جس سے وہ ’بلندی‘ حاصل کرے اور اُس میں ’دنیا کو بدلنے کی صلاحیت‘ پیدا ہو۔ غریب فیملی ہو یا دولت مند، اپنی استطاعت کے مطابق بہتر سے بہتر اسکول میں بچوں کا داخلہ کراتی ہے۔ لیکن افسوس کہ ایسے اسکول بہت کم ہیں جہاں نصابی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات میں تخلیقی صلاحیت نکھارنے کی کوشش ہوتی ہو۔ بیشتر اسکول بچوں کو ’نمبرات کی دوڑ‘ میں کامیاب تو بنا دیتے ہیں، لیکن اس علم سے آشنا نہیں کرا پاتے جو بچوں کو حقیقی معنوں میں ’بلندی‘ عطا کر سکے۔ اس معنی میں ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی مبارکباد کے مستحق ہیں جنھوں نے راجدھانی دہلی کے تاریخی شاہین باغ میں ’رحیق گلوبل اسکول‘ نام سے ایک ایسا تعلیمی ادارہ قائم کیا، جہاں بچوں کو عصری و مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدروں سے بھی روشناس کرایا جاتا ہے۔

’رحیق گلوبل اسکول‘ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی اور ڈائریکٹر شائستہ پروین ایک طالبہ کو اعزاز سے نوازتے ہوئے
’رحیق گلوبل اسکول‘ کا قیام ڈاکٹر ظل الرحمن کا ایک ایسا خواب تھا، جسے شرمندۂ تعبیر کرنا محنت و مشقت کی ایک بے مثال داستان ہے۔ انھوں نے ہمہ گیر ویژن اور اسلامی روح کے ساتھ نئی نسل کی پرورش کا خواب دیکھا تھا، جسے پورا کرنا قطعی آسان نہیں تھا۔ مشکل حالات میں حاصل اس کامیابی کے سفر میں ان کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ انھوں نے بغیر عطیہ (ڈونیشن) کے تعلیمی ادارہ چلانے کا عزم کیا۔ ایک ایسے دور میں، جب لوگ ملک و بیرون ملک سے عطیہ حاصل کرنے کا مقصد سامنے رکھ کر تعلیمی ادارے قائم کرتے ہیں، ڈاکٹر ظل الرحمن کا عزم اپنے ’پیر پر کلہاڑی‘ مارنے جیسا تھا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’’میں عطیہ حاصل کرنے میں اپنی قوت ضائع کرنے کی جگہ بچوں کو ایسی تعلیم دینے میں وقت لگانا چاہتا تھا کہ والدین میں ایک بھروسہ قائم ہو۔ ایسا بھروسہ کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو لے کر مطمئن ہو جائیں اور اسکول کی خصوصیات کا ذکر اپنے دوست و احباب میں کریں۔ اس طرح بچوں کی بڑی تعداد اسکول سے منسلک ہو جائے، اور پھر ان کی فیس سے ہی اسکول کو چلانا ممکن ہو۔‘‘ ڈاکٹر ظل الرحمن کا یہ خیال تو بہت اچھا تھا، لیکن چیزیں اتنی آسان کہاں ہوتی ہیں! 2014 میں ’رحیق گلوبل اسکول‘ قائم ہونے کے چند ماہ بعد ہی معاشی مسائل شروع ہو گئے۔ اس سے پہلے کہ مشکلات بہت بڑھ جاتیں، دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھوں نے ایک بڑا فیصلہ لیا۔ فیصلہ تھا اسکول چلانے کے لیے ملازمت کرنے کا۔ دراصل وہ کسی حال میں اسکول کے لیے ڈونیشن نہیں لینا چاہتے تھے، اس لیے ذمہ دار و باصلاحیت اساتذہ کی ایک ٹیم بنا کر انھوں نے خود پارلیمنٹ آف انڈیا کے راجیہ سبھا میں ’فوری مترجم‘ کی ملازمت اختیار کر لی۔ یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی کے لیے اچھی ملازمت حاصل کرنا کوئی مشکل امر نہیں تھا، کیوں کہ وہ اعلیٰ تعلیمی لیاقت تو رکھتے ہی ہیں، اردو، ہندی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ عربی زبان میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا تعلیمی سفر ایک الگ داستان ہے، جس کا ذکر یہاں ممکن نہیں۔ اتنا بتانا ہی کافی ہوگا کہ جامعہ امام ابن تیمیہ سے فارغ ہیں اور 2008 سے 2013 تک ’سعودی کلچر مشن، نئی دہلی‘ میں اکیڈمک کوآرڈنیٹر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ ’رحیق گلوبل اسکول‘ قائم کرنے سے قبل وہ ’دوحہ ماڈرن انڈین اسکول‘ میں عربی و اسلامیات کے ٹیچر بھی رہے۔
بہرحال، ایک طرف راجیہ سبھا میں ڈاکٹر ظل الرحمن کی ملازمت چلتی رہی، اور دوسری طرف اسکول کو ان کی رہنمائی بھی ملتی رہی۔ اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ وہ اسکول پر خرچ کرنے لگے، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ نئے نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ راجیہ سبھا میں کام کرتے ہوئے جو تنخواہ انھیں مل رہی تھی، اس سے مالی مسائل ختم نہیں ہو پا رہے تھے۔ ایسے حالات میں انھوں نے اپنی زندگی کا مزید ایک بڑا فیصلہ لیا۔ 2015 کی بات ہے، جب ڈاکٹر ظل الرحمن نے ’امام محمد بن سعود یونیورسٹی‘ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تقرری حاصل کی۔ وہاں انھوں نے اپنی صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کیا کہ کچھ ہی عرصہ بعد ڈیپوٹیشن پر امامِ حرم کے مترجم بن گئے۔ لیکن ان کا خواب تو ’رحیق گلوبل اسکول‘ کی آبیاری تھا، اس لیے نم آنکھوں کے ساتھ پاکیزہ و بابرکت خطۂ ارض مکہ سے 2023 میں وطن واپسی کی۔ ان 8 سالوں میں انھوں نے خود کو معاشی طور پر اتنا مضبوط بنا لیا کہ مزید کوئی ملازمت کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ ان کی محنت کا پھل اللہ وحدہٗ لاشریک نے یہ بھی دیا کہ اس عرصہ میں اسکول طلبا و طالبات سے اس طرح بھر گیا کہ شاہین باغ میں ایک الگ برانچ کھولنے کی ضرورت پڑ گئی۔ اسکول کو مزید وسعت دینا اور انتظام و انصرام میں آ رہی پریشانیوں کو سنبھالنا بھی ضروری تھا، اس لیے وطن واپسی کا فیصلہ بہت مناسب تھا۔


2023 میں ہندوستان پہنچنے کے ساتھ ہی ڈاکٹر ظل الرحمن نے خود کو پوری طرح سے اسکول کی وسعت میں جھونک دیا۔ یہ وقت کی ضرورت بھی تھی کیونکہ بڑی تعداد میں والدین سیٹ ختم ہونے کے سبب لوٹنے لگے تھے۔ ’رحیق گلوبل اسکول‘ کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے لوگوں کی خواہش اپنے بچوں کا داخلہ اس اسکول میں کرانے کی ہوتی تھی، لیکن سیٹوں کی کمی کے سبب انھیں مایوس لوٹنا پڑتا تھا۔ ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے 2023 میں ’رحیق گلوبل اسکول‘ کا برانچ جیت پور (کھڈا کالونی، دہلی) میں کھولا گیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر ظل الرحمن نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 2025 میں اسکول کا ایک برانچ ’کنچن کنج‘ (دہلی) میں اور رواں سال ایک برانچ سنگم وِہار (وزیر آباد، دہلی) میں کھولا گیا۔ آج شاہین باغ برانچ میں تقریباً 400 بچے، جیت پور برانچ میں تقریباً 200 بچے، کنچن کنج برانچ میں تقریباً 125 بچے اور سنگم وِہار برانچ میں تقریباً 50 بچے زیر تعلیم ہیں۔ ڈاکٹر ظل الرحمن نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ بچوں کو معیاری تعلیم دینے کے لیے اساتذہ باصلاحیت بھی ہوں اور بچوں کی نفسیات کو بھی سمجھیں۔ ساتھ ہی مجموعی طور پر تقریباً 65 اساتذہ رکھے گئے ہیں تاکہ تعلیم و تعلم میں کوئی رخنہ پیدا نہ ہو۔
’قومی آواز‘ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظل الرحمن انتہائی مطمئن نظر آئے، کیونکہ انھوں نے جو خواب دیکھا تھا، آج اس کی تکمیل بھی دیکھ رہے ہیں۔ اب انھوں نے ایک نیا خواب دیکھا ہے، وہ خواب ہے ’رحیق گلوبل اسکول‘ کے 20 برانچز دہلی-این سی آر میں کھولنے کا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اس وقت شاہین باغ برانچ میں نرسری سے آٹھویں درجہ تک، جیت پور میں نرسری سے چھٹے درجہ تک، کنچن کنج میں نرسری سے پہلے درجہ تک اور سنگم وِہار میں نرسری سے یو کے جی تک تعلیم دی جا رہی ہے۔ ان برانچز میں کلاسز کو ہر سال وسعت دینے کا ارادہ ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے دنیاوی و دینی تعلیم حاصل کر سکیں۔ ساتھ ہی دہلی-این سی آر میں مزید برانچز کھولنے پر بھی کام چل رہا ہے۔‘‘ وہ اس بات پر بھی مطمئن نظر آئے کہ سبھی برانچز میں بچوں کو اخلاقی اقدار، نظم و ضبط، زندگی کے تمام چیلنجز کا سامنا کرنے اور مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اعتماد و عزم کے ساتھ ضروری مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں۔
’رحیق گلوبل اسکول‘ کی بنیاد رکھتے ہوئے 2014 میں ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی نے جو بغیر عطیہ لیے تعلیمی ادارہ چلانے کا عزم کر ’پیر پر کلہاڑی‘ ماری تھی، آج وہ کلہاڑی پھول کی مانند محسوس ہو رہے ہیں۔ وہ ان پھولوں پر قدم رکھتے ہوئے آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس سفر میں ڈاکٹر ظل الرحمن کا ساتھ ان کی شریک حیات شائستہ پروین بھی بھرپور انداز میں دے رہی ہیں۔ یہ ساتھ صرف سخنے نہیں ہے، قدمے بھی ہے۔ شائستہ پروین ’رحیق گلوبل اسکول‘ کی ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اسکول کا ایک مضبوط ستون بن چکی ہیں، اور ڈاکٹر ظل الرحمن کی طاقت بھی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































